اسلام آباد (این این آئی)اپوزیشن نے لانگ مارچ کرنے کیلئے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی شرط رکھ دی۔
ہفتے کو حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا دوسرا دورسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہوا۔ مذاکرات میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزرا امیر مقام، رانا ثنا اللہ، محسن رضا نقوی، طلال چوہدری اور طارق فضل چوہدری جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی مذاکرات میں شریک تھے۔اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر خان، راجہ ناصر عباس، عامر ڈوگر، اسد قیصر، حلیم عادل شیخ اور سلمان اکرم راجہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کل کا اجلاس بہت خوشگوار ماحول میں ہوا، آج بھی امید ہے کے تمام فریقین خوشگوار ماحول میں مذاکرات کو آگے بڑھائیں گے۔امیر مقام نے کہا کہ ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کیلئے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی مگر آج سہیل آفریدی نے کل دن ایک بجے لانگ مارچ کا ٹویٹ کردیا۔حکومتی رکن نے کہاکہ سینئر حکومتی اکابرین بارے نازیبا زبان استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے۔اپوزیشن اراکین نے خواجہ آصف کے ٹویٹ کا شکوہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
مذاکرات کے دوران حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی سے لانگ مارچ کا اعلان واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر میں ایسا برداشت نہیں ہوسکتا کہ دہشت گردوں کو مارچ میں آنے کا راستہ ملے۔تحریک انصاف کے وفد نے لانگ مارچ ختم کرنے کیلئے حکومت کے سامنے شرائط رکھتے ہوئے اسد قیصر اور بیرسٹر گوہر سے بانی کی ملاقات کا مطالبہ کیا۔مذاکرات کے دوران پیپلز پارٹی اراکین نے دونوں جانب سے اعتماد کی فضا بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔



















































