اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حکومت، پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دوران بعض معاملات پر اختلافات شدت اختیار کرگئے اور شرکا کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس کے درمیان بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے فریقین سے تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔مذاکرات کے دوران راجا ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے پر اعتراض اٹھایا۔ اس پر رانا ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتیں اپنا کام کررہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے مذاکرات میں واضح کیا کہ اسلام آباد کی جانب کسی قسم کی پیش قدمی یا چڑھائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے پی ٹی آئی کو یہ بھی پیغام دیا کہ احتجاج کے دوران انتشار یا بدامنی کی صورت میں کسی رعایت کی توقع نہ رکھی جائے۔حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی کسی قسم کی رعایت چاہتی ہے تو اسے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ ہٹ دھرمی برقرار رہی تو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کے بعد پی ٹی آئی کا وفد اپنی سیاسی کمیٹی سے مشاورت کرے گا، جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بھی بات چیت کی جائے گی۔



















































