پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

بھارت نے دریائے راوی میں پانی چھوڑ دیا

datetime 10  جولائی  2023 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے دریائے راوی میں ایک لاکھ 85ہزار کیوسک پانی کا ریلہ چھوڑ دیا ہے جس کے بعد دریا میں جسر کے مقام پر چھوٹے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔پاکستان کمیشن انڈس واٹر کے مطابق بھارت کی جانب سے تقریباً 1لاکھ 85ہزار کیوسک پانی کا ریلہ اجھ بیراج دریائے راوی سے چھوڑا جا چکا ہے اس سلسلے میں بتایا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق پچھلے سال بھی بھارت نے ایک لاکھ 73ہزار کیوسک پانی چھوڑا تھا اور چھوڑے گئے پانی کا تقریباً ایک تہائی یعنی 60ہزار کیوسک جسر تک پہنچا تھا جس کی وجہ سے دریائے راوی پر گیجنگ پوائنٹ پر پانی کا بہاو تیز ہو گیا تھا۔

گزشتہ ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال تقریباً 65ہزار کیوسک پانی اگلے 20 سے 24 گھنٹوں کے اندر پہنچنے کی توقع ہے جس کے نتیجے میں جسر کے مقام پر دریائے راوی میں کم نوعیت کی سیلابی کیفیت متوقع ہے۔این ڈی ایم اے کی ہدایت پر متعلقہ انتظامیہ 20جولائی تک حساس علاقوں خاص طور پر دریائے چناب پر مرالہ ہیڈ ورکس اور دریائے راوی میں جسر کے مقام پر مانیٹرنگ جاری رکھے گی۔این ڈی ایم اے نے عوام کو بارشوں کی پیشرفت اور تازہ ترین صورتحال سے مسلسل آگاہ رہنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گا البتہ کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار کے ساتھ ساتھ شمال مشرقی پنجاب اور سندھ میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ مزید بارش متوقع ہے۔محکمہ موسمیات کی جاری رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب، شمالی بلوچستان، زیریں سندھ، بالائی خیبرپختونخوا، کشمیر اور گلگت بلتستان میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جبکہ اس دوران چند مقامات پر موسلا دھار بارش بھی ہوئی۔

اس دوران سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہر قصور میں 140 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جبکہ لاہور میں نشتر ٹان میں 94 ملی میٹر، جوہر ٹان میں 90 ملی میٹر، لکشمی چوک میں 55 ملی میٹر، گلشن راوی 50 ملی میٹر، اقبال ٹان 41 ملی میٹر، ایئرپورٹ 30 ملی میٹر، قرطبہ چوک اور تاج پورہ 27 ملی میٹر، سٹی 24 ملی میٹر، سمن آباد 23 ملی میٹر، گلبرگ 19 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔اس کے علاوہ نارووال میں 35، ملتان (سٹی میں 17 ملی میٹر)، گجرات ملی میٹر15، بہاول نگر 15ملی میٹر، سبی 78 ملی میٹر، چھور57ملی میٹر، جیکب آباد 47 ملی میٹر، لاڑکانہ 20 ملی میٹر، کراچی 13.2 ملی میٹر، مٹھی 14، راولاکوٹ 32 ملی میٹر، کوٹلی 19 ملی میٹر، استور میں 11 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق 8 اور 9 جولائی کے دوران موسلادھار بارش کے باعث گوجرانوالہ ،لاہور ، سیالکوٹ، نارووال ،بہاونگر،اوکاڑہ اور زیریں سندھ کے نشیبی علاقے زیر آب آنے جبکہ مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختو نخواہ کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔موسلادھاربارش کے باعث کشمیر، ڈیرہ غازی خان، کوہلو، سبی اوربارکھان کے پہاڑی علاقوں اور ملحقہ مقامی اور برساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…