منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا سانحہ ماڈل ٹاؤن کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کا حکم، نواز شریف کے بعد شہباز شریف کے بھی بُرے دن شروع، چند ہی دن میں کیا ہونیوالا ہے؟ دھماکہ خیز خبر سنا دی گئی

datetime 15  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی و تجزیہ کار محمد مالک نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو تاحیات نااہل کر دیا گیا جس پر مریم نواز خوب گرجی برسیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مگر اب ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے والا ہے، اب سپریم کورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن پر انسداد دہشت گردی کو حکم دیا ہے کہ اس کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ محمد مالک نے کہا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے رخصت

پر گئے ہوئے ججز کی چھٹیاں بھی کینسل کر دی گئی ہیں اور کہا گیا ہے کہ ماڈل ٹاؤن کیس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی جائے، اس طرح اب میاں نواز شریف کے بعد شہباز شریف کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، معروف صحافی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ایسا تاثر پایا جا رہا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ شہباز شریف کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے اور اسی لیے انہیں محفوظ رکھا جا رہا ہے مگر اب یہ تاثر ختم ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔اب لگتا ایسا ہے کہ شہباز شریف کے بھی برے دن شروع ہونے والے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…