منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈی سی گوجرانوالہ نے خودکشی کی یا انہیں قتل کیا گیا،معمہ حل کر لیا گیا پوسٹمارٹم کرنے والے ڈاکٹروں نے میڈیکل کی تاریخ کا چونکا دینے والا انکشاف کر ڈالا، ہاتھ پیچھے کیوں بندھے ہوئے تھے؟اصل حقیقت کیا نکلی

datetime 24  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ڈپٹی کمشنر گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو کی خود کُشی کا معمہ حل کر لیا گیا، پولیس افسران کی موجودگی میں رات گئے کانسٹیبل کے ذریعے ہاتھ باندھ کرڈاکٹروں کے سامنے خود کُشی کرنے کی فرضی پریکٹس کئے جانے کا انکشاف۔ پولیس اہلکار نے خود ہی اپنے ہاتھ باندھ کر خود کُشی کرنے کی فرضی مشق کی جس پر ڈاکٹروں سمیت دیگر افسران کو یقین ہو گیا

کہ مقتول خود اپنے ہاتھ باندھ کر خودکشی کر سکتا ہے۔ ہاتھ باندھ کر خود کُشی کرنے کی فرضی مشق صرف یہ دیکھنے کے لیے کی گئی تھی تاکہ یہ پتہ کیا جا سکے کہ آیا ہاتھ باندھ کر کسی شخص کا خود کُشی کرنا ممکن بھی ہے یانہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ڈی سی او گوجرانوالہ سہیل احمد ٹیپو گذشتہ دو ہفتوں سے ڈپریشن کا شکار تھے ۔ انہوں نے کمشنر گوجرانوالہ کو تحریری طور پر لکھ کر بھی دیا تھا کہ انہیں ڈی سی او کہ عہدے سے ہٹا دیا جائے لیکن ان کا تبادلہ نہیں کیا گیا ۔ خودکُشی کے روز سہیل احمد ٹیپو نے اپنی اہلیہ سے 9 بج کر 30 منٹ پر بات کی اور ساری رات جاگتے رہے۔3 بجے اپنے والدین کو اُٹھا کر سہیل احمد ٹیپو نے کہا کہ چھت پر کوئی بکری ہے یا کچھ اور ہے آوازیں آ رہی ہیں اگر کوئی آواز آئے تو پریشان نہیں ہونا۔ ذرائع نے بتایا کہ سہیل احمد ٹیپو نے اپنے والدین کو ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا تاکہ خود کُشی کے وقت اگر اس کی آواز نکلےبھی تو بھی والدین پریشان نہ ہوں۔ دوسری جانب یہ بات سامنے آئی کہ کمشنر گوجرانوالہ نے کچھ عرصہ قبل نفسیاتی ڈاکٹرز کا ایک پینل بُلوا کر سہیل احمد ٹیپو کا دو گھنٹے تک چیک اپ کروایا۔جس کے بعد ڈاکٹرز نے کہا کہ سہیل احمد ٹیپو ڈپریشن کا شکار ہیں۔ انہیں دوائی کی ضرورت ہے جس کے بعد وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ سہیل احمد ٹیپو کو گھریلو معاملات سے متعلق کوئی ڈپریشن نہیں تھا، محکمہ میں

کسی افسر کی ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ وہ ذہنی طور پر پریشان ہو گئے ہوں۔ تاہم رپورٹس میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سہیل احمد ٹیپو کی ہلاکت کا معاملہ 100 فیصد خود کُشی کا معاملہ ہے۔دوسری جانب یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈی سی گوجرانوالہ کی موت کے بعد ان کے ماموں کی جانب سے تھانہ سول لائن میں درج کروایا گیا قتل کا مقدمہ دراصل محکمہ کی جانب سے

دوران ڈیوٹی فوت یا قتل ہوجانے والے ملازمین کو دی جانیوالی امداد کیلئے کٹوایا گیا ہے۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی حاضر سروس سرکاری ملازم خودکشی کر لے تو محکمہ کی طرف سے امداد نہیں ملتی۔تھانہ سول لائن کے مطابق پوسٹمارٹم رپورٹ میں خود کُشی ثابت ہو گئی ہے ، تاہم ابھی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی گئی جبکہ مقدمہ بھی قتل کا ہی درج کیا گیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…