بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

بلوچ علیحدگی پسندوں او رپنجابی طالبان کے ساتھ مفاہمانہ پالیسی ، میجر (ر )عامرکے حیرت انگیزانکشافات

datetime 13  فروری‬‮  2018 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) ممتاز دفاعی تجزیہ کار اور آئی ایس آئی اسلام آبادکے سابق سٹیشن چیف میجر عامرنے کہاہے کہ بلوچ علیحدگی پسندوں او رپنجابی طالبان کے ساتھ جو مفاہمانہ پالیسی اختیار کی گئی اور جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے وہی پالیسی خیبر پختونخوا اورفاٹا کے لیے کیوں اختیار نہیں کی جاررہی جب تک مسجد و مدرسہ کے گنبد و مینار سلامت ہیں یہ ملک بھی سلامت رہے گا

دین سے دوری اختیار کرنے والے ہمارے دشمن نہیں ہمارے قافلے کے بچھڑے ہوئے لوگ ہیں اورعلمائے کرام اور ہمیں اپنے بچھڑے بھائیوں کو مارنانہیں سمجھا کر گلے لگاناہے وہ گذشتہ روز معروف دینی درسگاہ جامعہ عثمانیہ نوتھیہ پشاور میں علمائے کرام او رعہدحاضر کے چیلنجز کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کررہے تھے اس موقع پر جامعہ کے مہتمم مفتی غلام الرحمان اورناظم مولاناحسین احمدبھی موجودتھے میجرعامر نے کہاکہ موجودہ دور پرسیپشن میکنگ یعنی تاثر سازی کاہے بدقسمتی سے ا س معاملہ میں ہم جنگ ہار چکے ہیں ہمارا سچ ہمارے دشمن کے جھوٹ سے مغلوب ہوچکاہے آج مذہب ڈاڑھی اورمدرسہ کو نفرت کی علامت بنایاجارہاہے ان حالات میں علمائے کرام پربھاری ذمہ داریاں عائدہوتی ہیں اور ان کو اپنے لیے قران کریم کو گائیڈ بک کے طورپرسامنے رکھ کر آگے بڑھناہوگا انہوں نے کہاکہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھا نا کسی بھی طور جائز قرارنہیں دیاجاسکتا او رماضی میں جس نے بھی ایسا کیااس نے سب سے زیادہ نقصان اسلام کو ہی پہنچایاہے ہمارے ہاں ہجومی انصاف کا رجحان پرورش پارہاہے جو خطرناک امرہے یہ دور فکر ی جنگ کاہے جس میں علمائے کرام کا کردارسب سے اہم ہے انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے ریاست میں بیٹھے کچھ عناصربھی دین اوردینداروں سے ہمیشہ بیزار رہے ہیں اور انہی نے مسائل بڑھائے ہیں پختونوں اور قبائلی بھائیوں کوہمیشہ کسی اور رنگ میں پیش کیا گیا ہے

مگر ہم نے دیکھاکہ اسلام آبادمیں اب تک چار دھرنے ہوئے ہیں پہلے تین دھرنوں میں عوام کو شدیدمشکلا ت کاسامناکرنا پڑا ،پولیس پر حملے کیے گئے راستے بندکیے گئے اداروں پر حملے ہوئے لوگوں کو خون بہایاگیامگر چوتھااور آخری دھرناجو پختونوں اورقبائلی باشندوں نے دیا میں کوئی مسئلہ پیدانہ ہوا جس مہذب انداز میں یہ دھرنادیاگیا وہ پورے ملک کے لیے مثال بن چکاہے حالانکہ جن لوگوں نے یہ دھرنا دیا ان کے سینوں پرنقیب اللہ محسودکی شہادت کے گہرے زخم تھے اس کے باوجود بھی پختونوں اور قبائلی باشندو ں پر دہشتگردی اور بد تہذیبی کالیبل چسپاں کیاجارہاہے کم ازکم اس دھرنے کے بعدتو پختونوں اورقبائلی باشندوں کے خلاف پروپیگنڈے کرنے والوں کو اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی چاہئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…