اتوار‬‮ ، 11 اکتوبر‬‮ 2026 

اسلام آباد میں چینی باشندوں پر حملہ،تشدد،نقدی اور سفری دستاویز بھی چھین لیں

datetime 6  جون‬‮  2017 |
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کوئٹہ میں چینی شہریوں کے اغوا کے بعد وفاقی دارالحکومت میں بھی ایک افسوسناک واقعہ۔نجی ٹی وی کے مطابق نامعلوم ملزمان نے حملہ کر کے 2چینی باشندوں سمیت چار افراد کو زخمی کر دیا۔چینی باشندے کاروبار کے سلسلے میں سیکٹر ایف سیون میں موجود تھے۔نجی ٹی وی کے مطابق مسلح ملزمان نے دو چینی باشندوں کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنا کر تشدد کیا جبکہ 8ملزموں نے چینی باشندوں سے نقدی اور سفری دستاویز بھی چھین لیں۔
چینی باشندوں نے تھانہ کوہسار میں بھی درخواست جمع کرا دی ہے۔ جس میں تشدد کے واقعے کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ مطالبہ کیا گیا ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دریں اثناءبلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے جناح ٹا ؤن سے گزشتہ ماہ اغوا ہونے والے2 چینی شہریوں کی بازیابی میں پیشرفت نہ ہونے کے بعد اس علاقے میں رہائش پذیر 11 چینی باشندوں نے وطن واپسی کے لیے کراچی کا رخ کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 مئی کو اغوا ہونے والا چینی جوڑا ایک چینی زبان سکھانے والے ادارے میں استاد تھا، جنہیں تین مسلح افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔مسلح افراد نے ان ٹیچرز کے ساتھ موجود تیسری چینی خاتون کو بھی اغوا کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں اغوا کے مقام پر موجود ایک راہ گیر نے جب ان افراد کو بچانے کی کوشش کی تو مسلح افراد نے اسے گولی ماردی تھی۔ان افراد کے اغوا ہونے کے بعد سے اس علاقے میں رہائش پذیر 11 چینی باشندے، جن میں 3 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں، کو سخت سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق کراچی میں چینی قونصل خانے کے اہلکاروں نے رواں ہفتے کے آغاز میں ان 11 افراد سے ملاقات کی،جہاں ان کی چین واپسی کا فیصلہ کیا گیا۔
کوئٹہ کے ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او)عبد الرزاق چیمہ نے میڈیاکو بتایا کہ یہ افراد تقریبا ایک سال سے کوئٹہ میں مقیم ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دو چینی باشندوں کے اغوا کے بعد پولیس کی جانب سے پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے ، این جی اوز، اقوام متحدہ کے اداروں کے لیے کام کرنے والے چینی اور دیگر افراد کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا گیا تھا۔عبدالرزاق چیمہ کے مطابق جناح ٹاؤن میں جنوبی کوریا کے شہریوں کے دو خاندان رہائش پذیر ہیں اور انہیں بھی پولیس کی جانب سے سخت سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے۔ان کے مطابق یہ دو گھرانے چار سال سے کوئٹہ میں ہی آباد ہیں۔ریجنل پولیس آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ مغوی چینی باشندوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پولیس کو تاحال ان افراد کے بارے میں کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…