منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شیخ حسینہ کے دور میں لاپتا افراد کے سینکڑوں واقعات کی تحقیقات کا آغاز

datetime 28  اگست‬‮  2024 |

ڈھاکا(این این آئی)بنگلہ دیش کے نئے حکام نے معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دور حکومت میں سیکورٹی فورسز کے ذریعے جبری گمشدگیوں کے سینکڑوں واقعات کی تحقیقات کا آغاز کیا کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے دور اقتدار میں بدنام زمانہ ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) نیم فوجی دستہ تھا جس پر متعدد حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے اور امریکا نے ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی بنیاد پر نیم فوجی دستہ پر پابندی لگائی تھی۔

ہیومن رائٹس واچ نے گزشتہ سال کہا تھا کہ 2009 میں حسینہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے 600 سے زائد جبری گمشدگیاں کی ہیں اور تقریبا 100 لاپتا ہیں۔حراست میں لیے گئے افراد میں سے اکثر کا تعلق حسینہ کی حریفوں، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت جماعت اسلامی سے تھا۔حسینہ واجد کی حکومت نے ان الزامات کی مسلسل تردید کی اور دعوی کیا کہ لاپتا ہونے والوں میں سے کچھ یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران بحیرہ روم میں ڈوب گئے تھے۔

ایک حکومتی حکم نامے میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج معین الاسلام چودھری کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (بی جی بی)سمیت دیگر نیم فوجی پولیس یونٹوں کی بھی تحقیقات کرے گی۔اقوام متحدہ کے حقوق کے دفتر کا کہنا تھا کہ RAB اور BGB دونوں فورسز کے پاس انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ریکارڈ ہیں، جن میں جبری گمشدگیاں اور تشدد اور ناروا سلوک شامل ہیں۔نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کی جانب سے کام شروع کرنے کا حکم دینے والے کمیشن کے پاس اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے 45 کام کے دن ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…