ہفتہ‬‮ ، 17 جنوری‬‮ 2026 

انسانی حقوق کے عالمی منشور میں ترامیم کی ضرورت ہے،کمشنربرائے انسانی حقوق

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی) اقوام متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل باچیلٹ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس عالمی نظام نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کو یقینی بنایا تھا وہ اب حکومتوں اور سیاستدانوں کے تنگ نظر قومی مفادات کی وجہ سے ٹوٹ رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے

کے مطابق انہوں نے کہاکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمن شہر نیورمبرگ میں نازی ملزمان کے خلاف مقدمات میں قومی مفادات کے حق میں دلائل پیش کیے گئے تھے۔ یہی بحث دراصل اس عالمی منشور کی تیاری میں مدد گار ثابت ہوئی۔ یوں اس منشور کا اطلاق ہر شخص پر ہوتا ہے، چاہے وہ جمہوری ملک کا رہنے والا ہو یا بادشاہی نظام میں یا پھر کسی ایسے ملک میں جہاں فوجی حکومت قائم ہے۔برطانوی سکالر فرانسسکا کلوگ نے گفتگو میں کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور خاص طور پر ایسے دور میں تخلیق کیا گیا تھا جب قوم پرستی اور عوامیت پسندانہ سوچ جمہوری ملکوں میں سرایت کر گئی تھی۔انسانی حقوق کے قوانین کے پروفیسر کونور گیئرٹی نے کہا کہ ماضی میں امریکا انسانی حقوق کے دفاع میں مرکزی کردار ادا کر تا رہا ہے تاہم موجودہ دور میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکا کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے بھی دستبردار کر دیا ہے۔بعض انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق ستر برس بعد انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اس منشور پر نظر ثانی بھی کی جانی چاہیے۔ تاہم اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی کمشنر میشیل باچیلٹ کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور موجودہ دور کے لیے اتنا ہی سازگار ہے جتنا ستر برس قبل تھا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…