منگل‬‮ ، 07 اپریل‬‮ 2026 

انسانی حقوق کے عالمی منشور میں ترامیم کی ضرورت ہے،کمشنربرائے انسانی حقوق

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی) اقوام متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق میشیل باچیلٹ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس عالمی نظام نے انسانی حقوق کے عالمی منشور کو یقینی بنایا تھا وہ اب حکومتوں اور سیاستدانوں کے تنگ نظر قومی مفادات کی وجہ سے ٹوٹ رہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے

کے مطابق انہوں نے کہاکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جرمن شہر نیورمبرگ میں نازی ملزمان کے خلاف مقدمات میں قومی مفادات کے حق میں دلائل پیش کیے گئے تھے۔ یہی بحث دراصل اس عالمی منشور کی تیاری میں مدد گار ثابت ہوئی۔ یوں اس منشور کا اطلاق ہر شخص پر ہوتا ہے، چاہے وہ جمہوری ملک کا رہنے والا ہو یا بادشاہی نظام میں یا پھر کسی ایسے ملک میں جہاں فوجی حکومت قائم ہے۔برطانوی سکالر فرانسسکا کلوگ نے گفتگو میں کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور خاص طور پر ایسے دور میں تخلیق کیا گیا تھا جب قوم پرستی اور عوامیت پسندانہ سوچ جمہوری ملکوں میں سرایت کر گئی تھی۔انسانی حقوق کے قوانین کے پروفیسر کونور گیئرٹی نے کہا کہ ماضی میں امریکا انسانی حقوق کے دفاع میں مرکزی کردار ادا کر تا رہا ہے تاہم موجودہ دور میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ نے امریکا کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل سے بھی دستبردار کر دیا ہے۔بعض انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق ستر برس بعد انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اس منشور پر نظر ثانی بھی کی جانی چاہیے۔ تاہم اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کی کمشنر میشیل باچیلٹ کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ انسانی حقوق کا عالمی منشور موجودہ دور کے لیے اتنا ہی سازگار ہے جتنا ستر برس قبل تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)


جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…