بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

کابل بہت زیادہ غیر محفوظ ہو گیا،طالبان حملوں میں اضافہ،داعش کے حملوں میں تیزی،امریکی فوج کی مزید کمک بھی بے اثر ہوگئی،اہم صوبے میں بغاوت،اب کیا ہونیوالا ہے؟ لرزہ خیزانکشافات

datetime 29  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)کابل بہت زیادہ غیر محفوظ ہو چکا ہے، گزشتہ ہفتے ہم وہاں گئے تو چپے چپے پر چیک پوائنٹس تھیں لیکن حملے رک نہیں رہے۔ کابل کے ساتھ غزنی، ہلمند اور بلخ میں بڑے حملے ہوئے ہیں، کل بلخ میں جیل کو توڑا گیا، کئی قیدی فرار ہو گئے ادھر منشیات کا کاروبار عروج پر ہے ستم یہ ہے کہ افغانستان کی مخلوط حکومت میں اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں۔ صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے اختلافات تو پہلے

ہی تھے اب بلخ کے گورنر عطا محمد نور نے اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے وہ 13 سال بلخ کے گورنر رہے ہیں، نئے گورنر انجینئر محمد داؤد ایک ہفتے سے انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اپنے عہدے کا چارج لیں لیکن ان کو عہدہ نہیں دیا گیا۔ طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوگیا تھا اب داعش کے حملوں میں تیزی آئی ہے امریکہ نے مزید فوجی افغانستان بھجوائے اس سے بھی کام نہیں بن رہا۔رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ امریکی پچھلے 17 سال سے جنگ لڑ رہے ہیں پہلے ڈیڑھ لاکھ فوج تھی اب افغانستان میں 20 ہزار غیر ملکی فوجی ہیں صدر ٹرمپ نے 21 اگست کو اپنی نئی پالیسی کا اعلان کیا اس کے بعد مزید امریکی فوجی بھیجے گئے ڈرون حملوں اور بمباری میں اضافہ ہوا لیکن اس کے جواب میں طالبان نے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ داعش بھی میدان میں آگئی ہے یہ مسئلے کا حل نہیں۔ جتنی طاقت استعمال کریں گے اتنی ہی جوابی کارروائی ہو گی۔ امریکہ اپنی پہلی غلطی کو دہرا رہا ہے اس نے پہلے بھی طاقت استعمال کی وہ طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوا، اسے بات چیت کے ذریعے ماحول کو سازگار بنانا ہو گا افغانستان میں بد امنی بڑھے گی تو امریکہ اور کابل کی طرف سے پاکستان پر مزید الزام تراشی ہو گی اور امریکہ ڈو مور کا مزید مطالبہ کرے گا یہ صورتحال امریکہ کے بس میں نہیں اس لئے وہ پاکستان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے یا ان کے خلاف کارروائی کرے۔

اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ مزید افغان بے گھر ہوں گے اور ہزاروں لوگ شاید پاکستان آجائیں جبکہ پہلے ہی ہمارے ہاں 25 لاکھ افغان پناہ گزین موجود ہیں اس طرح پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے خود کو محفوظ بنانے کے لئے بارڈر پر باڑ لگانا شروع کردی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سو کلو میٹر باڑ لگ چکی ہے بارڈر پر ڈیڑھ سو قلعے بنائے گئے ہیں لیکن اس میں ایک طویل عرصہ لگے گا۔ پاکستان کی یہ کوشش ہوگی کہ امن کے لئے کوششیں تیز کی جائیں۔ چین نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر بنانے کے لئے ایک نئی کوشش شروع کی ہے لیکن یہ بھی امریکہ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں، میرے خیال میں صرف علاقائی حل ممکن نہیں ہوگا، امریکہ کا تعاون بہت ضروری ہے ،امریکہ رکاوٹ ڈالے گا تو مسئلہ حل نہیں ہوگا۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…