امریکا (نیوز ڈیسک) طبی تحقیق کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،
جہاں ماہرین نے ایسا نظام تیار کیا ہے جو کینسر میں مبتلا مریض کی چہرے کی تصویر کا تجزیہ کرکے اس کے زندہ رہنے کے امکانات کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی امریکا کے ماس جنرل بریگھم ہاسپٹل سے وابستہ محققین نے تیار کی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج معروف سائنسی جریدے دی لانسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ میں شائع کیے گئے ہیں۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق اس اے آئی سسٹم کا بنیادی مقصد چہرے کی تصویر کی مدد سے کسی شخص کی حیاتیاتی عمر کا تخمینہ لگانا اور اس معلومات کو کینسر کے مریضوں کی بقا کے امکانات کا اندازہ لگانے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ اس نظام کو تربیت دینے کے لیے چار کروڑ سے زیادہ تصاویر پر مشتمل ڈیٹا استعمال کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق انسان کی عمر کو عام طور پر تاریخ پیدائش کے حساب سے شمار کیا جاتا ہے، جسے کرانیکل ایج کہا جاتا ہے۔ تاہم، جسم کے خلیات، اعضا اور مختلف نظام کس حد تک عمر رسیدہ ہوچکے ہیں، اس کا تعلق حیاتیاتی عمر سے ہوتا ہے۔ جینیاتی ساخت، روزمرہ معمولات اور طرز زندگی سمیت متعدد عوامل اس عمر کو متاثر کرسکتے ہیں۔
تحقیق میں وضاحت کی گئی ہے کہ حیاتیاتی عمر میں اضافہ بعض بیماریوں کے خطرات سے منسلک ہوسکتا ہے۔ اسی تصور کو مدنظر رکھتے ہوئے محققین نے اے آئی پر مبنی دو الگ ٹولز تیار کیے ہیں۔ ان میں سے پہلا چہرے کی تصویر سے حیاتیاتی عمر کا اندازہ لگاتا ہے، جبکہ دوسرا کینسر کے مریض کی بقا کے امکان اور موت کے خطرے سے متعلق پیشگوئی کرتا ہے۔
دونوں ٹولز چہرے کے مختلف حصوں اور ظاہری خصوصیات کا الگورتھم کے ذریعے جائزہ لیتے ہیں، جس کی بنیاد پر متعلقہ نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کینسر کے مریضوں کی حالت اور مستقبل کے ممکنہ نتائج کا اندازہ لگانے کے لیے ایک نیا تحقیقی راستہ فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم، اس ٹیکنالوجی کو مریضوں کی تشخیص یا علاج کے فیصلوں میں استعمال کرنے سے پہلے اس کی افادیت اور درستگی کو مزید جانچنا ضروری ہوگا۔



















































