پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو پانی کی کمیابی کا سامنا ہے، بہتر پالیسیاں اختیار کرنی ہوں گی، ماہرین کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 24  مارچ‬‮  2021 |

اسلام آباد(این این آئی)جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو پانی کی سخت کمیابی کا سامنا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے پانی کے استعمال کے بہتر اور موثرنظام وضع کرنے کی ضرورت ہے تا کہ یہ اہم قدرتی وسیلہ  اگلی نسلوں تک پہنچایا جا سکے۔ پانی، ماحولیات اور زرعات کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے اس امر کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے

زیر اہتمام پائیدار ترقی کا چھٹا ہدف اور پانی کی اہمیت کے موضوع پر منعقدہ آن لائن ریجنل مکالمے کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔نیپال کے سابق وزیر برائے آبی وسائل ڈاکٹر دیپک گیوالی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پانی کی انتہائی اہمیت کے پیش نظر علاقائی سے مقامی سطح پر تنازعات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پانی سے متعلق مسائل کا کلی جائزہ لیا جائے اور اس کے ماحولیاتی، زرعی اور دوسرے متعلقہ پہلووں کو پیش نظر رکھا جائے۔واٹر ایڈ جنوبی ایشیا کی ریجنل ایڈووکیسی مینجر ونیتا سونیجا نے اس موقع پر کہا کہ کورونا وبا کے دوران پانی کی غیر معمولی اہمیت ایک بار پھر اجا گر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وبا کے دوران مسلسل ہاتھ دھونے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاہم ہمیں پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایک بڑی تعداد میں آبادی کو صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی غیر معمولی اہمیت کے باجود جنوبی ایشائی ممالک کی جانب سے اس شعبے کے لیے زیادہ رقوم مختص نہ ہونا ایک پریشان کن حقیقت ہے۔ایس ڈی پی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری نے کہا کورونا وبا کے دوران غذائی تحفظ، زراعت اور وبا کے خلاف حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں پانی نے اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک کو پانی کی کمیابی کا سامنا ہے جہاں ہر سال پینے کا صاف پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں بچوں کی اموات ہو جاتی ہیں۔ ہمیں یہ اہم قدرتی نعمت آنے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔سندھ ایگرکلچرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا کہ ہمارے ہاں پانی کے موثر استعمال کی شرح بہت کم ہے۔ اس صورتحال میں بہتری لانے کے لیے تدریسی ماہرین، سول سوسائٹی اور تمام دوسرے طبقات کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کے بہتر استعمال کے لیے آگاہی کو عام کیا جا سکے۔ جدید کاشتکاری اختیار کرنے والے عامر حیات بھنڈارا نے اس موقع پر کہا کہ زراعت کے جدید طریقوں کو اختیار کر کے پانی کے استعمال کو موثر بنایا جا سکتا ہے تاہم اس کے لیے ہمیں ان طریقوں پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…