واشنگٹن(نیوزڈیسک)پینٹاگون نے کہا ہے کہ اس نے اٹاہ لیب سے بھول سے ملک میں پھیلے متعدد لیب کے لیے فعال اینتھریکس روانہ کر دیا ہےامریکی فوج نے لیبارٹری میں زندہ یا فعال اینتھریکس کے مزید نمونوں کی دریافت کے بعد جانچ کا حکم جاری کیا ہے کہ اس سے کس طرح نمٹا جا رہا ہے۔پینٹاگون کے مطابق زندہ یا فعال ایتھریکس کے نمونے 11 امریکی ریاستوں اور جنوبی کوریا اور آسٹریلیا میں موجود کم از کم 24 لیبارٹریوں میں بھیجے گئے ہیں۔پینٹاگون نے کہا ہے کہ وبائی بیماری پھیلانے والے بیکٹریا اینتھریکس سے عوام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔حیاتیاتی تحفظ کے ماہرین نے اس غلطی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور مزید احتیاط برتنے کی تلقین دی ہے۔اینتھریکس سے جلد کے زخم یا ناسور، متلی، قے اور بخار ہوجاتا ہے اور اگر علاج نہیں کیا گیا تو اس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔زندہ اینتھریکس کو بھیجنے کی خبر سب سے پہلے بدھ کو سامنے آئی جس میں امریکہ نے کہا کہ اس نے بھول سے اٹاہ کی لیبارٹری سے ٹیکسس، میری لینڈ، وسکانسن، ڈیلاویئر، نیو جرسی، ٹینیسی، نیویارک، کیلیفورنیا اور ورجینیا کے ساتھ جنوبی کوریا میں ایک ایئر بیس پر زندہ اینتھریکس ارسال کر دیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ ’یہ شپ منٹ مارچ سنہ 2014 اور اپریل 2015 کے درمیان کیے گئے۔‘ وزارت دفاع نے کہا کہ انھوں نے ’نادانستہ طور پر بھیجے گئے مزید اینتھریکس شپ منٹ کی نشاندہی کی ہے‘ جن میں ایک آسٹریلیا بھی روانہ کیا گیا ہے اور یہ ایتھریکس بیکٹریا سنہ 2008 کے بیچ سے ہے۔فوج نے اپنی تمام لیبارٹریوں کو یہ حکم دیا ہے کہ انھوں نے پہلے جو غیر فعال اینتھریکس سے نمونے حاصل کیے ہیں ان کی جانچ کریں۔ اس کے علاوہ انھیں یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ اگلے حکم تک وہ ان تمام سیمپلز (نمونوں) کے ساتھ کام کرنا بند کر دیں۔جو نمونے غیر فعال یا مردہ جان کر بھیجے گئے ان میں ’زندہ بیکٹیریا‘ پائے گئے ہیں۔بیماریوں کی روک تھام کا ادارہ سی ڈی سی اس واقعے میں جانچ کر رہا ہے۔اس بیکٹیریا کے رابطے میں آنے پر جلد پر ناسور، متلی، قے اور بخار کی علامتیں ظاہر ہوتی ہیںجنوبی کوریکا میں اوسان ایئربیس پر بھیجے گئے نمونوں کے ساتھ ممکنہ طور پر ان کے تعلق میں آنے کے سبب اس ہفتے 22 فوجیوں کا احتیاطی علاج کیاگیا ہے۔امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایک تربیتی مشق کے دوران جنوبی کوریا کے فوجی اڈے پر بعض فوجی اہلکار ایتھریکس کا شکار ہوئے ہوں گے تاہم ابھی تک کسی میں اس کی کوئی علامت نمودار نہیں ہوئی ہے۔امریکی فوج نے کہا: ’انھیں مناسب احتیاطی طبی سہولیات دی گئی ہیں جن میں جانچ اور اینٹی بایوٹکس شامل ہے جبکہ بعض معاملے میں ٹیکہ بھی لگایا گیا ہے۔‘خیال رہے کہ ایتھریکس بیٹریا قدرتی طور پر مٹی میں غیر فعال پڑا رہتا ہے لیکن اس کے انسان کے رابطے میں سانس یا کھانے کے ذریعے آنے سے یہ فعال ہوجاتا ہے اور اگر اس کا مناسب علاج نہیں ہوا تو اس سے موت واقع ہو سکتی ہے۔
اینتھریکس کے مزید نمونوں کی دریافت کے بعد جانچ کا حکم
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل



















































