منگل‬‮ ، 30 جون‬‮ 2026 

وزارت ماحولیاتی تبدیلی کا ضبط کیے گئے پلاسٹک کو ری سائیکل کرنے کا فیصلہ‎

datetime 10  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ضبط کیے گئے پلاسٹک کو ری سائیکل کرکے ان سے کچرے کے ڈبے، گلدان اور فرنیچر بنانے کا فیصلہ کرلیا۔وزارت کے ترجمان محمد سلیم نے ایک انٹرویومیں بتایا کہ یہ کچھ نیا نہیں ہے، ری سائیکل کیے گئے پلاسٹک سے بننے والے فرنیچر اور دیگر گھریلو سامان مارکیٹ میں پہلے ہی دستیاب ہیں،

یہ اقدام وزیر اعظم کے مشیر برائے ماحولیاتی تبدیلی کی جانب سے کلین اینڈ گرین پاکستان منصوبے کے لیے تجویز کردہ متعدد منصوبوں میں شامل ہے۔انہوںنے کہاکہ وزارت نے پہلے ہی اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے مینوفیکچررز سے بات کرلی ہے۔گزشتہ سال 14 اگست کو پلاسٹک پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سے وزارت کی نفاذی ٹیم نے اب تک 12 لاکھ روپے کے جرمانے اور 2 ہزار 100 کلو پولیتھین کے تھیلے ضبط کیے ہیں۔ان ضبط شدہ تھیلوں کو ری سائیکل کرکے 1 ہزار کچرے کے ڈبے اور گلدان بنائے جائیں گے جنہیں اسلام آباد میں اسکولوں، ہسپتالوں اور دیگر سرکاری اداروں میں رکھا جائے گا۔پلاسٹک کے تھیلوں پر شہر میں پابندی عائد ہونے کے بعد 16 اگست 2019 کو 4 ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں جو متعدد علاقوں میں اس پابندی کا اطلاق کرانے کی پابند تھیں۔‎وزارت ماحولیاتی تبدیلی، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ایڈمنسٹریشن، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد اور پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک-ای پی اے) تھیلوں کے غیر قانونی استعمال کی نگرانی کرنے کی ذمہ داری ہیں۔پہلی مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر ہول سیلرز کو 1 لاکھ روپے جبکہ شاپ کیپر کو 10 ہزار روپے اور صارفین کو 5 ہزار روپے تک کا جرمانہ لگایا جاسکتا ہے جبکہ جرم دہرانے پر جرمانے میں اضافہ بھی ہوگا۔وزارت نے دعویٰ کیا کہ پلاسٹک کے تھیلیوں کے استعمال کو 80 فیصد تک کنٹرول کرلیا گیا ہے جبکہ مزید اقدامات کیے جارہے ہیں،ان کوششوں کے باوجود ہفتہ بازاروں، گلی محلے کی دکانوں اور پھل یا سبزی فروخت کرنے والے ٹھیلے والے اشیا کو تھیلیوں میں ہی دے رہے ہیں۔چند دکاندار اوکسی بائیو ڈی گریڈ ایبل پلاسٹک بیگ کا استعمال کر رہے ہیں جو عام پلاسٹک کے تھیلوں سے صحت اور ماحول کے لیے زیادہ نقصاندہ بتایا جاتا ہے۔وزارت میں موجود ماہر ماحولیات کا کہنا ہے کہ اوکسی بائیو ڈی گریڈ ایبل پلاسٹک کے تھیلے چھوٹے ذرات میں تبدیل ہوجاتے ہیں جو سانس کی نالی کے ذریعے انسانوں میں جاسکتے ہیں۔پاک ای پی اے کی ڈائریکٹر جنرل فرزانہ الطاف چاہ کے مطابق قانون میں اوکسی بائیو ڈی گریڈ ایبل پلاسٹک کے تھیلے پر بھی پابندی عائد ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…