منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں چلاگیا، کھاتو ں کا توازن بگڑ کر بڑے تجارتی خسارے میں تبدیل

datetime 20  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دوبارہ خسارے میں چلا گیا، اکتوبر میں سرپلس رہنے کے بعد نومبر کے دوران جاری کھاتوں میں 32 کروڑ ڈالر کا خسارہ رہا، تاہم مالی سال کے پہلے پانچ ماہ مجموعی طور پر خسارے میں 73 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسٹیٹ بینک کے مطابق نومبر میں کھاتوں کا توازن بگڑ کر 319 ملین ڈالر کے تجارتی خسارے میں تبدیل ہوگیا

جبکہ مالی سال کے پہلے پانچ ماہ کے دوران بیرونی کھاتوں کا خسارہ ایک ارب 82 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال سے 4 ارب 91 کروڑ ڈالر کم ہے،رواں مالی سال ملکی برآمدات میں 4.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ درآمدی بل میں 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، 5 ماہ کے دوران حکومت کو اشیاء اور سروسز کی برآمدات سے مجموعی طور پر 12 ارب 47 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے جبکہ درآمدات پر 22 ارب 9 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے۔ایک رپورٹ کے مطابق نومبر کے دوران جاری کھاتوں میں 31 کروڑ ڈالر کا خسارہ ہوا، اکتوبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 7 کروڑ ڈالر سرپلس تھا،رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.6 فیصد ہے، جولائی سے اکتوبر تک کی پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا ڈالر میں حجم 115 ارب 65 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہا، جو گزشتہ سال سے 8.3 فیصد کم ہے۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے سماجی رابطے کی سائٹ پر ٹوئٹ میں کہا کہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، نومبر کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 72.6 فیصد کمی ہوئی، رواں مالی سال کے پہلے 5 ماہ کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں مجموعی طور پر73 فیصد کمی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق اکتوبر میں کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس 70 ملین ڈالر سرپلس تھا مگر حکومت اسے برقرار رکھنے میں ناکام رہی اور نومبر میں جاری کھاتے کا توازن بگڑ کر 319 ملین ڈالر کے تجارتی خسارے میں تبدیل ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…