ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

یکم جولائی تک حتمی بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیے جانے کا امکان

datetime 28  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی قومی اسمبلی سے فنانس بل 20-2019 کی حتمی منظوری کے بعد اس کی اگلی منزل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بورڈ اجلاس ہوگا، جو 3 جولائی کو شیڈول ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تمام معاملے سے آگاہ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اسمبلی سے حتمی بجٹ کے اقدامات کی منظوری کے ساتھ تمام پیشگی اقدامات پر تعمیلی رپورٹ، پاکستان کی 6 ارب ڈالر کی درخواست پر

آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے میں اہم عنصر ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ اور فنانس بل کا حتمی اور منظور شدہ ورژن پیر تک آئی ایم ایم کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب بورڈ اجلاس کی حساسیت کے تناظر میں وزرات خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’تمام پیشگی ایکشنز کی تکمیل نے 3 جولائی کے بورڈ اجلاس کے لیے راستہ بنایا ہے، جبکہ پارلیمنٹ سے منظور بجٹ کو شیئر کرنا ان پیشگی ایکشن میں سے ایک تھا‘۔انہوں نے کہا کہ ا?ئی ایم ایف اجلاس کے سامنے پیش کرنے کے لیے بجٹ کی منظوری پاکستان کے لیے حتمی چیز تھی، اس کے علاوہ ’حالیہ ایکسچینج ریٹ، اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ، بجلی اور گیس کی قیمتیں اور بجٹ منظوری اہم پیشگی اقدامات تھے‘۔حکام کا کہنا تھا کہ 12 مئی کو ہونے والے اسٹاف کی سطح پر معاہدے کے تناظر میں اقتصادی اور مالی پالیسی کی یاد داشت (ایم ای ایف پی) پہلے ہی آئی ایم ایف کو منتقل کی جاچکی ہے، پاکستان 39 ماہ تک پروگرام کی مدت میں مصروف عمل رہے گا جسے اسٹیٹ بینک ’مارکیٹ کا متعین کردہ ایکسچینج ریٹ‘ کہہ رہا ہے۔تاہم ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی موقع پر مرکزی بینک کو بیرونی عوامل کی طرف سے مصنوعی طریقے سے ایکسچینج ریٹ میں چھیڑچھاڑ کی کوشش کی قابل عمل ثبوت نظر آتے ہیں تو وہ اس میں مداخلت کے لیے آزاد ہوگا۔اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک پاکستان اپنے پالیسی ریٹ اور افراط زر کی شرح کے درمیان موجودہ فرق کو برقرار رکھے گا، جبکہ کسی بھی وقت کیسے بھی حالات میں پالیسی ریٹ اور افراط زر کے درمیان فرق کو 1.5 فیصد سے نیچے گرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی حالات میں پالیسی ریٹ مہنگائی سے 1.5 فیصد زیادہ پر رہے گا۔واضح رہے کہ اس وقت بنیادی افراط زرد

7.2 فیصد پر موجود ہے جبکہ صارفین کے پرائس انڈیکس کے تحت مہنگائی کی عام شرح 9.1 فیصد اور پالیسی ریٹ 12.25 فیصد پر ہے۔اسٹیٹ بینک کے مختلف ذرائع نے بتایا کہ عام طور پر پالیسی ریٹ کا فیصلہ کرتے وقت موجودہ افراط زر کی شرح کے بجائے متوقع افراط زر کو دیکھا جاتا ہے، اسی تناظر میں بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے متوقع مہنگائی کی شرح زیادہ سے زیادہ 13 فیصد ہوسکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…