بدھ‬‮ ، 25 مارچ‬‮ 2026 

یکم جولائی تک حتمی بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیے جانے کا امکان

datetime 28  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن) حکومت کی قومی اسمبلی سے فنانس بل 20-2019 کی حتمی منظوری کے بعد اس کی اگلی منزل بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بورڈ اجلاس ہوگا، جو 3 جولائی کو شیڈول ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس تمام معاملے سے آگاہ ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ اسمبلی سے حتمی بجٹ کے اقدامات کی منظوری کے ساتھ تمام پیشگی اقدامات پر تعمیلی رپورٹ، پاکستان کی 6 ارب ڈالر کی درخواست پر

آئی ایم ایف بورڈ کے فیصلے میں اہم عنصر ثابت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بجٹ اور فنانس بل کا حتمی اور منظور شدہ ورژن پیر تک آئی ایم ایم کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب بورڈ اجلاس کی حساسیت کے تناظر میں وزرات خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’تمام پیشگی ایکشنز کی تکمیل نے 3 جولائی کے بورڈ اجلاس کے لیے راستہ بنایا ہے، جبکہ پارلیمنٹ سے منظور بجٹ کو شیئر کرنا ان پیشگی ایکشن میں سے ایک تھا‘۔انہوں نے کہا کہ ا?ئی ایم ایف اجلاس کے سامنے پیش کرنے کے لیے بجٹ کی منظوری پاکستان کے لیے حتمی چیز تھی، اس کے علاوہ ’حالیہ ایکسچینج ریٹ، اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ، بجلی اور گیس کی قیمتیں اور بجٹ منظوری اہم پیشگی اقدامات تھے‘۔حکام کا کہنا تھا کہ 12 مئی کو ہونے والے اسٹاف کی سطح پر معاہدے کے تناظر میں اقتصادی اور مالی پالیسی کی یاد داشت (ایم ای ایف پی) پہلے ہی آئی ایم ایف کو منتقل کی جاچکی ہے، پاکستان 39 ماہ تک پروگرام کی مدت میں مصروف عمل رہے گا جسے اسٹیٹ بینک ’مارکیٹ کا متعین کردہ ایکسچینج ریٹ‘ کہہ رہا ہے۔تاہم ایک سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگر کسی بھی موقع پر مرکزی بینک کو بیرونی عوامل کی طرف سے مصنوعی طریقے سے ایکسچینج ریٹ میں چھیڑچھاڑ کی کوشش کی قابل عمل ثبوت نظر آتے ہیں تو وہ اس میں مداخلت کے لیے آزاد ہوگا۔اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک پاکستان اپنے پالیسی ریٹ اور افراط زر کی شرح کے درمیان موجودہ فرق کو برقرار رکھے گا، جبکہ کسی بھی وقت کیسے بھی حالات میں پالیسی ریٹ اور افراط زر کے درمیان فرق کو 1.5 فیصد سے نیچے گرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اس کا مطلب یہ ہے کہ انتہائی حالات میں پالیسی ریٹ مہنگائی سے 1.5 فیصد زیادہ پر رہے گا۔واضح رہے کہ اس وقت بنیادی افراط زرد

7.2 فیصد پر موجود ہے جبکہ صارفین کے پرائس انڈیکس کے تحت مہنگائی کی عام شرح 9.1 فیصد اور پالیسی ریٹ 12.25 فیصد پر ہے۔اسٹیٹ بینک کے مختلف ذرائع نے بتایا کہ عام طور پر پالیسی ریٹ کا فیصلہ کرتے وقت موجودہ افراط زر کی شرح کے بجائے متوقع افراط زر کو دیکھا جاتا ہے، اسی تناظر میں بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے متوقع مہنگائی کی شرح زیادہ سے زیادہ 13 فیصد ہوسکتی ہے۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…