جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

الامارات، فلائی دبئی اوراتحاد کے مسافروں کواب چہرے پرماسک پہننے کی ضرورت نہیں

datetime 28  ستمبر‬‮  2022 |

ابوظہبی (این این آٗی)متحدہ عرب امارات کے حکام نے اسکولوں اور شاپنگ مالوں جیسے عوامی مقامات پرماسک پہننے کی پابندی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔اس کے بعد اب الامارات ، فلائی دبئی اور اتحاد ایئرویز کی پروازوں میں سفرکرنے والے مسافروں کو بھی چہرے پر ماسک پہننے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسزاور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این سیما) کے اعلان کے مطابق مکینوں کوبدھ 28 ستمبر سے تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ خریداری مراکز، مالوں ،سپرمارکیٹوں، ہوٹلوں اور ریستورانوں میں چہرے کو ڈھانپنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔یو اے ای کی ملکیتی مذکورہ تینوں فضائی کمپنیوں نے فوری طور پر اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے دورانِ سفر مسافروں کو ماسک نہ پہننے کی ہدایات جاری کی ہیں اور اس کو اختیاری قراردیا ہے۔الامارات نے اپنی ویب سائٹ پرکہا ہے کہ کمپنی کی اندرون اور بیرون ملک کی پروازوں میں فیس ماسک پہننا اختیاری ہے۔اس کے علاوہ 28 ستمبر سے فلائی دبئی کی پروازوں میں دبئی جانے والے مسافر بھی اپنا چہرہ ڈھانپے بغیر سفرکرسکتے ہیں۔ایئرلائن نے اپنی ویب سائٹ پرمزیدوضاحت کی ہے کہ ہوائی اڈے پرفیس ماسک پہننا اختیاری ہے اور لازمی نہیں ہے۔اتحادایئرویز نے بھی طیارے میں ماسک پہننے کے حوالے سے اپنے قواعدوضوابط میں نرمی کی ہے۔ البتہ ایئرلائن نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ بھارت، چین اور مالدیپ سمیت متعدد مقامات پر سفر کرنے والے مسافروں کو اب بھی چہرے پر ماسک پہننا ہوگا۔متحدہ عرب امارات میں کووڈ 19 کی وبا کا انتظام کرنے والے ادارے این سیما کے ذریعے جاری کردہ نئے

قواعد کے مطابق اب صرف عبادت گاہوں ، اسپتالوں اورنقل وحمل کے عوامی ذرائع میں ماسک پہننا ضروری ہوگا۔این سیما نے یہ بھی اعلان کیا کہ کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کے گھروں میں الگ تھلگ رہنے

کی مدت اب 10 دن سے کم کرکے پانچ دن کردی جائے گی ، جبکہ صرف کووِڈکیمثبت ٹیسٹ والے شخص کو قرنطینہ کرنے کی ضرورت ہوگی اور اس کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے والے کسی شخص کوایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…