ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

شہد کی مکھیوں کی لمبی زندگی کے لیے مکھیوں میں مائیکرو سینسر ز نصب کیے جارہے ہیں

datetime 28  اگست‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )آسٹریلوی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ وہ دنیا بھر میں شہد کی مکھیوں کی تیزی سے کم ہوتی ہوئی آبادی کی وجوہات جاننے کے لیے ان مکھیوں کے ساتھ مائیکرو سینسر نصب کیے ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق شہد کی مکھیاں دنیا بھر میں قریب 70 فیصد فصلوں کی پولینیشن یا تخم کاری میں مدد کرتی ہیں تاہم ان کی آبادی میں بہت تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے خدشات جنم لے رہے ہیں۔محققین کی طرف سے قبل ازیں کہا گیا تھا کہ شہد کی مکھیوں کے چھتوں میں کئی ملین کی تعداد میں جوان مکھیوں کی موت کی وجہ جسے کالونی کولیپس ڈِس آرڈر کا نام دیا جاتا ہے، خون چوسنے والے مائٹس یا ننھے طفیلیے اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔آسٹریلیا کی نیشنل سائنس ایجنسی CSIRO سے تعلق رکھنے والے محقق گیری فِٹ Gary Fitt نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، جو مائیکرو سینسرز ہم استعمال کر رہے ہیں ان کی مدد سے مکھیوں کے ان کے چھتوں اور باہر ماحول میں ان کے طرز عمل کا درست طور پر تعین کر سکتے ہیں۔ ان سینسرز کا پھیلاو¿ 2.5 ملی میٹر ہے جبکہ اس کا وزن محض 5.4 ملی گرام ہے۔ یہ وزن اس پولن سے بھی کم ہے جو شہد کی مکھیاں جمع کرتی ہیں۔ یہ سینسر یورپی شہد کی مکھیوں کی کمر پر چپکا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انتہائی ڈیٹا اکھٹا کرنے والے جدید ریسپرٹرز مکھیوں کے چھتے میں نصب کر دیے جاتے ہیں۔CSIRO امریکی ٹیکنالوجی کمپنی انٹیل اور جاپانی کمپنی ہٹاچی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ عالمی سطح پر مکھیوں کے بارے میں اعداد وشمار جمع کرنے اور ان کو درپیش خطرات کا جانچنے کے لیے یہ آسٹریلوی ادارہ اب سینسرز تک رسائی اور اعداد وشمار کے تجزیے کی مفت سہولت پیش کر رہا ہے۔
CSIRO کے شعبہ ہیلتھ اینڈ بائیو سکیورٹی ڈویعن کے سائنس ڈائریکٹر گیری فِٹ کے مطابق، ہم ان سینسرز کے ذریعے اس تمام ماحول کے بارے میں معلومات جمع کر رہے ہیں جہاں جہاں یہ مکھیاں جاتی ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں، اس سے ہمیں ان کے طرز عمل میں تبدیلی کا پتہ چلتا ہے۔ کتنا وقت اور کتنی مرتبہ وہ خوراک جمع کر رہی ہیں، کیا وہ خوراک لے رہی ہیں، کیا وہ پولن جمع کر رہی ہیں یا یہ کہ وہ چھتے کے اندر کیا کر رہی ہیں۔ اس کے بعد ہم دیکھ سکتے ہیں اور نتائج اخذ کر سکتے ہیں کہ وہ مختلف دباو¿ کی کیفیات میں کس طرح کا رد عمل دکھا رہی ہیں۔ اب تک سائنسدان آسٹریلوی ریاست تسمانیہ کے شمالی جزیرے میں قریب 10 ہزار شہد کی مکھیوں اور ان کے چھتوں میں یہ سینسرز نصب کر چکے ہیں جبکہ مزید سڈنی اور کینبرا شہر میں مکھیوں کے بارے میں جاننے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانا ہے۔فِٹ کے مطابق برازیل میں بھی قریب اتنی ہی تعداد میں مکھیوں کے بارے میں محققین جائزہ لے رہے ہیں جبکہ یورپ اور شمالی امریکا کے ماہرین بھی اس تحقیق میں شمولیت کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…