اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بڑھتے موٹاپے کا علاج ,ٹی وی اشتہارات پر پابندی؟

datetime 30  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک ) دنیا بھر میں موٹاپا کا مسئلہ کس قدر سنگین صورتحال پیدا کررہا ہے، اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ فی الحال چالیس برس سے اسی برس کے بیچ کے افراد میں موٹاپا موت کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ اس سے قبل شراب نوشی اور ایڈز جیسی خطرناک عادات موت کا سبب تھیں۔ اس عمر کے بیچ کے تقریباً اٹھارہ فیصد لوگ موٹاپے کے سبب ہلاک ہوتے ہیں اور سالانہ صرف امریکہ میں موٹاپے کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں پر عوام ڈیڑھ سو کھرب ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ یہ چشم کشا انکشافات نے امریکی دانشوروں کو بوکھلا دیا ہے اور یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ٹی وی پر دکھائے جانے والے اشتہارات جن میں کھانے پینے کی مزیدار سی اشیا دکھائی جاتی ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جب پوری ٹی وی سکرین پر گرما گرم بھاپ اڑاتی بریانی کی پلیٹ یا پھر پنیر سے بھرپور خوش رنگ پزا یا پھر تلی ہوئی مرغی وغیرہ جیسی چیزیں ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں تو انسانی نفسیات پیٹ بھرے شخص کو بھی بھوکا ہونے کا احساس دلاتی ہے اور یوں ایسی چیزیں کھانے کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ یہ اشتہارات پیش کرنے والے کمپنیز انسانی نفسیات سے بخوبی واقف ہیں، اسی لئے وہ صرف ٹی وی ہی نہیں بلکہ بس سٹیشن، اخبار راسلے، شاپنگ مارکیٹ سے لے کے ہر جگہ ایسے ہی اشتہا انگیز کھانوں کی تصاویر لگاتی ہیں۔ تاحال امریکی حکومت نے اس ضمن میں کچھ اقدامات کئے ہیں جیسا کہ سکول میں کھیل کے میدان سے جنک فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کے اشتہارات شائع کرنے پر پابندی لگائی جاچکی ہے نیز ایک اور قانون کے ذریعے سکولز میں ان کی فروخت کو بھی محدود کیا جاچکا ہے تاہم یہ اقدام کافی نہیں ہیں کیونکہ سروے اور تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق فی الوقت بچوں کی نسبت بڑوں میں موٹاپے کی شرح دوگنا ہے۔ بچوں میں ہر چھٹا بچہ موٹاپے کا شکار ہے جبکہ بڑوں میں ہر تیسرا فرد موٹاپے کا شکار ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ موٹے ہونا سب سے آسان ہے۔ صرف ایک اضافی فرائیز کی سرونگ بھی آپ کو اضافی100کیلوریز دیتی ہے جس سے مہینے میں ایک پونڈ وزن بڑھ سکتا ہے۔ اس کیلئے ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ ہمیں خود پر قابو رکھنا ہوگا۔ یار دوست زبردستی ایک سکوپ آئس کریم یا چپس کھانے پر اصرار کریں تو انہیں نہ کہنے کا گر سیکھنا ہوگا۔ مگر یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے۔ خاص کر جب میڈیا کی بدولت ہمارے اردگرد ہرطرف ایسے ہی اشتہا انگیز کھانوں کی تصاویر موجود ہوں۔ اس کیلئے ذاتی کوششوں کے ساتھ ساتھ حکومت کو اشتہاری مہمات پر بھی کنٹرول کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کیلئے اپنے جسم کی ضرورت اور زبان کے چٹخاروں کے بیچ فرق کرنا آسان ہوسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…