جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ڈی جی نیب نے باتوں باتوں میں چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی گرفتاری بارے بڑی خبر دے دی

datetime 8  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی )قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے ڈائریکٹر جنرل شہزاد سلیم نے کہا ہے کہ شہباز شریف سے سوال گندم کا ہو تو جواب چنا ہوتا ہے، سوال کریں تو کہتے ہیں میں نے بڑی خدمت کی ہے،شہباز شریف کی مزید کیسز میں بھی گرفتاری ہوگی، آشیانہ کیس مکمل ہے نومبر کے آخر میں نیب ہیڈ کوارٹرز کو بھیج دیں گے ، فواد حسن کو شہباز شریف کے سامنے بٹھایا گیا تھا، شہباز شریف نے ان کو تسلی دی کہ تم چپ ہو جاؤ، روؤ مت،چیئرمین نیب نے خواجہ برادران کے

وارنٹ گرفتاری جاری کر د یئے ہیں، 14 نومبر کو عدالت کو وارنٹ گرفتاری کا بتا دیں گے، سعد رفیق اور سلمان رفیق کو عدالت میں ہی گرفتار کریں گے۔ جمعرات کو ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں انکشافات سے بھرپور گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی نیب لاہور نے کہا میرا خیال ہے شہباز شریف کی مزید کیسز میں بھی گرفتاری ہوگی۔ ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کہا کہ نیب کے سوال کا جواب نہ ہو تو شہباز شریف چپ رہتے ہیں۔ آشیانہ کیس مکمل ہے نومبر کے آخر میں نیب ہیڈ کوارٹر کو بھیج دیں گے۔ڈی جی نیب لاہور نے بتایا کہ چیئرمین نیب نے خواجہ برادران کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، 14 نومبر کو عدالت کو وارنٹ گرفتاری کا بتا دیں گے، سعد رفیق اور سلمان رفیق کو عدالت میں ہی گرفتار کریں گے۔انھوں نے انکشاف کیا کہ پیراگون ہاوسنگ اسکینڈل میں جس کو بھی گواہی کے لیے بلاتے ہیں وہ غائب ہو جاتا ہے، بہانے بنانے لگ جاتا ہے، پیراگون کیس میں نیب نے بڑے ثبوت اکھٹے کر لیے ہیں۔شہزاد سلیم کا کہنا تھا کہ پیراگون کیس میں خواجہ برادران کے خلاف انکوائری جاری ہے، نیب کے ملزمان گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت نہیں لے سکتے، نیب انکوائری کے دوران گرفتاری کا فیصلہ ایک اسٹیج پر پہنچ کر کرتا ہے۔ نیب ایک تحقیقاتی ایجنسی ہے، دیکھتا ہے کس ملزم کے خلاف انکوائری ہو رہی ہے، کتنا با اثر ہے، کیا کیا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ

چیئرمین نیب نے خواجہ برادران کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں، عدالت میں ہی گرفتار کریں گے۔فواد حسن فواد کے سلسلے میں انھوں نے کہا کہ فواد حسن کو شہباز شریف کے سامنے بٹھایا گیا تھا، شہباز شریف نے ان کو تسلی دی کہ تم چپ ہو جا، رو مت۔ فواد حسن فواد نے بیان دیا جو کچھ کیا وزیرِ اعلی کے کہنے پر کیا۔ڈی جی نیب لاہور نے کہا کہ مونس الہی اور پرویز الہی کے خلاف بھی کیس پر تیزی سے کام جاری ہے، مسئلہ یہ ہے زیادہ تر لوگوں کی جائیدادیں ملک سے باہر ہیں،

شہباز شریف کے فرنٹ مین وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار تھے مگر وہ غائب ہیں، کوئی پیار محبت سے ٹرے میں رکھ کر نہیں بتائے گا کہ میں نے کرپشن کی ہے، اگر ہم نے گرفتاری غلط کی ہے تو ہم پر تنقید کی بہ جائے عدالت میں ثابت کریں۔انھوں نے مزید کہا کہ نیب کسی کی پگڑی نہیں اچھالتا، ہم ایک دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں، نیب ملزمان سے سوال پوچھتا ہے تو انھیں پسند نہیں آتے، شریف برادرز کے خلاف ایک اسکینڈل رمضان شوگر ملز میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا ہے،

گاں کے سیوریج کی آڑ میں رمضان شوگر مل کو فائدہ پہنچایا گیا۔سرکاری خزانے سے رمضان شوگر ملز کا سیوریج سسٹم بنایا گیا، قانونی وضاحت دی گئی تو ٹھیک ورنہ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، رمضان شوگر ملز کے لیے گنا پہنچانے کے لیے بھی سرکاری خزانے سے پل بنایا گیا، کئی چیزیں ایسی ہیں جو میڈیا پر نہیں بتا سکتے۔شہزاد سلیم نے کہا کہ نئے چیئرمین نیب کے بعد لاہور کے مقدمات میں تیزی سے پیش رفت ہوئی، اس سے پہلے کے سیٹ اپ میں لاہور کے کیسز کو دبا کر رکھا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے دھمکیاں ملنے کی بات پرانی ہے۔ نیب کو نہیں معلوم کہ حکومت کیا چیز ہوتی ہے، خود مختار ہیں، ہم سے کسی حکومتی شخصیت نے رابطہ نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…