منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ، نوجوان کیسے ماہانہ لاکھوں کما سکتے ہیں ؟ تفصیلا ت سامنے آگئیں

datetime 12  اگست‬‮  2018 |

سرگودھا(این این آئی) یونیورسٹی آف سرگودھا میں ای روزگار سنٹر کا افتتاح کرتے ہوئے چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی بڑھتی شرح کو کنٹرول کرنے اور با وقار روزگار فراہم کرنے کے لیے ای روزگار پروگرام کا آغاز کیا گیا جو نوجوان نسل کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا۔یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ نوجوان ای روزگار سکیم کا حصہ بن کر

آن لائن کاروباری منصوبوں سے ماہانہ لاکھوں روپے کما سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ملازمتوں کے مواقع کم ہیں،ای روزگار سکیم کا بنیادی مقصد فری لانسنگ کو فروغ دے کر ملازمتوں کے بہترین مواقع فراہم کر کے غربت و بے روزگاری کا سدباب کرنا ہے  تاکہ بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی کسمپرسی کم ہو اور معاشرے میں تعلیمی فروغ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے۔’’ای روزگار سکیم‘کے نام سے صرف اور صرف نوجوانوں کے لیے بڑی سرمایہ کاری کی گئی جو یقیناًپاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ای روزگار پروگرام کے دائرہ کار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان دنیا میں فری لانسنگ کی سروسز فراہم کرنے والا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے،ہر سال ڈیڑھ لاکھ سے زائد نوجوان انٹرنیٹ فری لانسنگ کے ذریعے کروڑوں روپے کا زر مبادلہ پاکستان لا رہے ہیں۔اگر فری لانسنگ پر توجہ دی جائے تو اس کے ذریعے پاکستانی ایکسپورٹ سے بھی زائد کمایا جا سکتا ہے اور ملکی سرمائے میں سالانہ 1ارب ڈالر کا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔نوجوانوں سے مخاطب ہو کر انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور نوجوانوں کونئے آئیڈیاز سے پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار اداکرنا ہوگا۔وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد نے کہا کہ ای روزگار پروگرام سے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اس وقت یونیورسٹی آف سرگودھا میں ای روزگار سنٹر آپریشنل ہے

جہاں نوجوانوں کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کادرست استعمال سکھا کر اس قابل بنایا جا رہا ہے کہ وہ آسانی سے بہترین روزگار کما کر ملک و قوم کے لیے نیک نامی کا باعث بن سکیں۔انہوں نے کہا کہ ای روزگار پروگرام خاص طور پر طالبات کے لیے آسانیاں لے کر آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرگودھا یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد70فیصد ہے جو ڈگری مکمل ہونے کے بعد گھر سے باہر نکل کر

ملازمت نہیں کر سکتیں، ای روزگار پروگرام سے تربیت حاصل کرنے کے بعد اب خواتین آرام سے گھر بیٹھے بھی روزگار حاصل کر سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک نئی سوچ اور نئے آئیڈیاز پر عمل در آمد کرتے نئے دور کا آغاز ہے جس کے معاشی و معاشرتی سرگرمیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔بڑھتی غربت و بے روزگاری کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں متبادل روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ تقریب کے اختتام پر مہمانان اور ای روزگار پروگرام کا حصے بننے والے نوجوانوں میں شیلڈز، ایوارڈز اور سرٹیفیکٹ تقسیم کیے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…