پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ کے نام پر بھی لوٹ مار شروع، کس طرح عوام کو بے وقوف بنا کر پیسے بٹورے جا رہے ہیں؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 15  جولائی  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان کے ڈیم بنائی سکیم کے نام پر جعلی واپڈا اہلکار بن کر عوام کو لوٹنے والے گروہ کو گلشن راوی پولیس نے گرفتارکر لیا۔ ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس پی اقبال ٹاؤن ڈویژن سید علی نے نو سربازی کی بڑھتی وارداتوں کے پیش نظر اے ایس پی گلشن راوی نو شیر وان علی کی نگرانی میں ایس ایچ او گلشن راوی اظہر حسین کے ہمراہ پولیس ٹیم بنائی

اس ٹیم نے واپڈا اہلکار بن کر لوٹنے والے اس گینگ کا تمام ریکارڈ اکٹھا کیا اور ان کی گرفتاری کے لیے خصوصی چیکنگ اور ناکہ بندی کی گئی اس دوران ایس ایچ او کو اطلاع موصول ہوئی کہ یہ گینگ ایک گھر میں نوسربازی کی واردات کرکے فرار ہو گیا ہے، اطلاع ملتے ہی پولیس نے ناکہ بندی کرکے اس گینگ کو گرفتار کرلیا، اس گینگ میں منشاء، شہان علی، ابو بکر اور ایک عورت شامل ہیں، رپورٹ کے مطابق ایس پی سید علی نے بتایا کہ ملزمان گلشن راوی سمیت دیگر علاقوں میں اپنے آپ کو واپڈا اہلکار بتا کر فی میٹر 500 روپے ڈیم فنڈ وصول کر رہے تھے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں حوالات میں بند کر دیا گیا ہے، تفتیش کے مطابق اس گروہ میں دو خواتین بھی شامل ہیں ایک گرفتار ہو چکی ہے اوردوسری خاتون کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان کے ڈیم بنائی سکیم کے نام پر جعلی واپڈا اہلکار بن کر عوام کو لوٹنے والے گروہ کو گلشن راوی پولیس نے گرفتارکر لیا۔ ایک موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایس پی اقبال ٹاؤن ڈویژن سید علی نے نو سربازی کی بڑھتی وارداتوں کے پیش نظر اے ایس پی گلشن راوی نو شیر وان علی کی نگرانی میں ایس ایچ او گلشن راوی اظہر حسین کے ہمراہ پولیس ٹیم بنائی اس ٹیم نے واپڈا اہلکار بن کر لوٹنے والے اس گینگ کا تمام ریکارڈ اکٹھا کیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…