منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تجارت کے فروغ کیلئے پاکستان کو دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہوگا

datetime 27  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی دارالحکومت کا دورہ کرنے والے ایک پاکستانی وفد کے ارکان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات کو دوبارہ مضبوط کرنے اور کاروباری تعلقات کو قائم کرنے کے لیے اب ’ امداد نہیں تجارت ‘ کی پالیسی پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔  رپورٹ کے مطابق امریکا میں پاکستانی سفیر علی جہانگیر کی تعیناتی کے بعد پاکستانی وفد نے اپنے پہلے دورے میں انہوں نے امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں سینئر امریکی حکام سے ملاقات کی اور اس تاثر کے ساتھ واپس آئے۔

امریکی بھی پاکستان کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات کے خواہاں ہیں۔ اس بارے میں سی ای او جے ایس گلوبل کیپیٹل لمیٹڈ کامران ناصر کا کہنا تھا کہ امریکی حکام بھی پاکستان کے ساتھ بہتر تجارتی تعلقات چاہتے ہیں لیکن حکام نے پاکستانی وفد کو کہا ہے کہ ’ دوستانہ کاروباری ماحول قائم کرنے کے لیے پاکستان کو تمام صورتوں سے دہشت گردی کو ختم کرنا ہوگا‘۔ وفد میں شامل حبکو کے سی ای او خالد منصور کا کہنا تھا کہ ’ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی خاص طور پر امریکا سے تعلق رکھنے والوں کے لیے پاکستان کو سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا ہوگا‘۔ ملاقات کے دوران اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ حکام کی جانب سے پاکستان کو یہ بھی یاد دہانی کرائی گئی کہ پیرس سے تعلق رکھنے والے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ( ایف اے ٹی ایف ) پہلے ہی دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں مبینہ طور پر ناکامی پر پاکستان کو سینسر کرنے کی تجویز پر غور کررہی۔ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اس مسئلے سے بچنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ خیال رہے کہ رواں سال فروری میں ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ مین پاکستان کا نام شامل کرنے کے لیے امریکا کیجانب سے اہم کردیا ادا کیا گیا تھا۔ تاہم امریکی حکام سے ملاقات کرنے والے وفد نے یہ محسوس کیا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے فہرست میں رکھا جاسکتا ہے لیکن بلیک لسٹ ہونے سے اجتناب کیا جائے گا کیونکہ بلیک لسٹ میں نام آنے سے معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جبکہ پاکستان اس صورتحال کا متحمل نہیں ہونا چاہے۔ اس حوالے سے کامران ناصر کا کہنا تھا کہ ’ ہم پاکستان پر لگی دہشتگردوں کی مالی معاونت کی مہر ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن گرے لسٹ میں رکھا جانا دنیا کا اختتام نہیں ہے‘۔ ’پاک امریکا تعلقات کو ڈالروں میں نہیں تولا جاسکتا‘  انہوں نے کہا کہ ’ ہم 2012 سے 2015 اور ابھی تک اس فہرست میں رہے اور اس دوران ہماری معیشت میں مسلسل بہتری دیکھنے میں آئی‘۔

ملاقات کے حوالے سے چیف ایگزیکٹو پاکستان بزنس کونسل احسان اے ملک کا کہنا تھا کہ’ پاکستانی وفد سے ملاقات میں امریکی حکام نے پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک ) میں اپنی گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور ہم نے انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ سی پیک امریکی تاجروں کے لیے بھی بہت زیادہ مواقع پیدا کرے گا‘۔ سی ای او میزان بینک عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ سی پیک انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر توجہ مرکوز کرے گا، جس سے سب کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…