بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے، کھربوں لگا کر بھی کو صاف پانی کے بجائے زہریلا پانی پلایاجارہا ہے،سپریم کورٹ

datetime 26  جون‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سندھ میں لکیر کے فقیر کی طرح کام چل رہا ہے،20 سال سے منصوبے چل رہے ہیں کھربوں لگا کر بھی لوگوں کو صاف پانی کے بجائے زہریلا پانی پلایاجارہا ہے۔سندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں لوگ اسی طرح مرتے رہیں ،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں منچھر جھیل آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے سیکریٹری آبپاشی پر سخت برہمی کااظہار کیا۔

عدالت نے ریمارکس دئے کہ 8 سال سے کیس چل رہا ہے آلودگی سے مچھلیاں مر رہی ہیں، کچھ عرصے بعد پولٹری کی صنعت بھی ختم ہو جائے گی۔ مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئے کہ سندھ حکومت کے ادارے چاہتے ہیں کہ لوگ اسی طرح مرتے رہیں، ترکی والوں نے پورا سمندر صاف کردیا،آپ سے کچھ نہیں ہوتا، اس طرح دنیا بھی آپ پر رحم نہیں کھائے گی۔نتائج نہ ملے تو ذمہ داران کو جیل بھیجیں گے۔ عدالت نے دوران سماعت استفسار کیا کہ بتایا جائے کیا گٹر، سڑکیں اور نالے صاف کرانا کیا عدالتوں کا کام ہے۔عدالت نے ریمارکس دئے کہ 20 سال سے منصوبے چل رہے ہیں مگر صاف پانی کا قطرہ نہیں مل سکا، کیا سندھ حکومت نے کوئی ایک درخت بھی لگایا؟ عدالت نے استفسار کیا کہ منچھر جھیل کا پانی کب تک قابل استعمال ہوسکے گا؟سیکریٹری آبپاشی نے عدالت کو بتایا کہ منچھر جھیل صاف کررہے ہیں، جلد پیشرفت سامنے آجائے گی۔جس پر عدالت نے ریمارکس دئے کہ کھربوں روپے خرچ کرکے بھی سندھ کے لوگوں کو زہرپلا رہے ہیں، بتایا جائے منچھر جھیل پر کتنے فنڈر جاری اور خرچ ہوئے،اگر حساب مانگ لیں تو ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا ہوگا، 20 سال کا حساب دینا ہوگا۔

کہاں کتنا پیسہ خرچ کیا،عدالت نے سیکریٹری آبپاشی کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئے کہ کام نہیں کیا تو آپ کو بھی جیل بھجوادیں گے،عدالت نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ سندھ میں انسان ریوڑ کی طرح گھوم رہے ہیں ان کی پرواہ کون کرے گا، 2010 کے سیلاب کا پانی محفوظ ہوتا تو10 سال استعمال کرتے، اگر بارشیں ہوجائیں تو پانی کہاں محفوظ کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…