منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

افغان وزارت دفاع اور گورنر قندوز کی ڈھٹائی، افغان ائیر فورس کی بمباری میں بڑی تعداد میں حافظ قرآن بچوں کے شہید ہونے کے باوجود کیا کہتے رہے؟ افسوسناک انکشافات

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

قندوز (نیوز ڈیسک) افغان صوبے قندوز کے ضلع دشت ارچی میں مسجد و مدرسہ دارالعلوم الہاشمیہ العمریہ پر افغان ائیرفورس کی وحشیانہ بمباری میں شہید حافظ قرآن میں سے بیشتر کے ہاتھوں میں شہادت کے بعد بھی قرآن پاک کے نسخے موجود تھے۔قرآن پاک حفظ کرنے کی خوشی میں دیے جانے والے تحائف ننھے شہدا کی نعشوں کے درمیان بکھرے ہوئے پائے گئے۔

یہ مناظر دیکھ کر امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچنے والے مقامی افراد کی آنکھیں آنسوؤں سے بھیگ گئیں۔ اس درد ناک سانحے پر مقامی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔دوسری طرف افغان وزارت دفاع کے حکام اور گورنر قندوز عبدالجبار نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وحشیانہ کارروائی کو طالبان جنگجوؤں ہی کے خلاف قرار دینے پر مصر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد و مدرسہ میں حفاظ کرام کی دستار بندی کی تقریب نہیں ہو رہی تھی بلکہ وہاں طالبان جنگجوؤں کی کوئٹہ شوریٰ کا ایک اہم عسکری اجتماع منعقد کیا جا رہا تھا تاہم دشت ارچی کے علمائے کرام اور عوام نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کردیا۔ سانحے کے بعد جاری کی جانے والی تصاویر میں واضح طور پر علمائے دین اور ننھے حفاظ کی بڑی تعداد کو سفید لباس میں ملبوس پھولوں کے ہار پہنے مدرسے سے متصل صحن میں بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔ادھر تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گورنر عبدالجبار نے قندوز ہسپتال کا دورہ کرکے تمام زخمیوں پر دباؤ ڈالا ہے کہ اگر انہوں نے علاج کرانا ہے تو اپنا بیان تبدیل کرنا ہوگا اور یہ کہنا پڑے گا کہ مدرسے میں طالبان کمانڈرز اور جنگجو بھی موجود تھے۔ اگر ان کا بیان حکومت کے خلاف ہوا تو علاج روک دیا جائے گا۔ اس حوالے سے قندوز میں موجود فضل خان نامی نوجوان نے ٹویٹر پر کہا کہ دارالعلوم الہاشمیہ العمریہ میں 300 کے قریب شہادتیں ہوئی ہیں لیکن افغان حکومت حقائق کو چھپا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…