بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

ریاستی ادارے کے ہاتھ پارلیمنٹ کے گریبان تک پہنچ گئے،نوازشریف کا شدیدردعمل، دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کون سا آئین ہے؟ پارلیمنٹ کابنایا گیا قانون من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہوگا پارلیمنٹ کے کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے تو ابہام دور کرنے پارلیمنٹ بھیجنا چاہیے۔نجی ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں نوازشریف نے کہاکہ پارلیمنٹ کابنایا گیا قانون من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہوگا،

پارلیمنٹ کے کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے،تو ابہام دور کرنے پارلیمنٹ بھیجنا چاہیے پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کونسا آئین ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ آئین ریاست کا نظام چلانے والی سب سے مقدس دستاویز ہے، آئین کی دستاویز عوام کے منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ ہی بناتی ہے پارلیمنٹ آئین کے ذریعے دیگر اداروں اور اپنی حدود کا بھی تعین کرتی ہے۔میاں نوازشریف نے کہا کہ اداروں کا احترام ان اداروں کی کارکردگی اور احترام سے ہوتاہے۔سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اتھارٹی چیلنج کرنا ریاستی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ پارلیمنٹ کو ائین میں ترامیم کا اختیار بھی ہے۔ کراچی میں کہا تھا کہ ایک ریاستی ادارے نے عملاً انتظامیہ کو مفلوج کر دیا، اسی ریاستی ادارے کے ہاتھ پارلیمنٹ کے گریبان تک پہنچ گئے ہیں، پارلیمانی قانون کو من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے تو پارلیمنٹ کی طرف بھیج دینا چاہیے۔ انتظامیہ تقرروتبادلہ نہ کر سکے، قانون عدالتی توثیق کا محتاج ہو تو یہ کونسا آئین ہے؟ کم ازکم پاکستان کا آئین تو یہ نہیں کہتا۔نواز شریف نے کہا کہ قوم کو احساس ہے کہ ایک خاندان کو نشانہ بنانے کیلئے کیسے حربے استعمال ہو رہے ہیں اور آئین کو کیوں کر تماشا بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ نوازشریف نے کہاہے کہ پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کون سا آئین ہے؟ پارلیمنٹ کابنایا گیا قانون من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہوگا پارلیمنٹ کے کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے تو ابہام دور کرنے پارلیمنٹ بھیجنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…