جمعہ‬‮ ، 09 اکتوبر‬‮ 2026 

محاذ آرائی کرنا ہے تو ۔۔! امریکی دھمکیوں کے جواب میں جنرل قمر باجوہ نے امریکی وزیرخارجہ کو کیا کہا؟امریکی نشریاتی ادارے کے انکشافات

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

نیویارک (این این آئی)امریکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی وزیر خا رجہ 4 گھنٹے کے دورے پر پاکستان آئے تو انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے علیحدہ میں ملاقات بھی کی۔امریکی میڈیا کے مطابق ریکس ٹلرسن سے بات چیت کا محور علاقائی سطح پر انسداد دہشت گردی کی کوششیں اور افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن بات

چیت کو بڑھاوا دینا تھا۔پاکستان نے واضح کیا کہ افغان جنگ ختم کرنے کا راستہ مفاہمت ہی سے ممکن ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے یہ پیغام دیا کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں پاکستان ناکام رہا تو امریکہ دوسری راہ اپنا کر یہ کام انجام دیگا۔وائس آف امریکہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے نہ صرف سویلین اور فوجی قیادت سے مشترکا بلکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ون آن ون ملاقات بھی کی تھی۔فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے حوالے سے وائس آف امریکہ نے کہا کہ ریکس ٹلرسن سے آرمی چیف کی بات چیت کھلی اور بیباک تھی جس میں آرمی چیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دباؤ یا محاذ آرائی سے نہیں بلکہ تعاون ہی سے پیشرفت ہوگی۔ فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنا کام انجام دیدیا ہے اور اپنے مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔دیگر اسٹیک ہولڈرز بھی ایسا طریقہ کار اپنائیں جس سے امن کی جانب پیشرفت اور افغانستان میں مفاہمت ممکن ہو۔

امریکی میڈیا کے مطابق طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے اوباما کی طرح ٹرمپ انتظامیہ بھی فوجی طاقت پر انحصار کیے ہوئے ہے، یہ جان کربھی کہ 16 برس میں یہ پالیسی ناکام رہی ہے۔ایک پاکستانی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا کہ نتائج حاصل کرنے کیلئے امریکہ کو اپنی اسٹریٹیجی پر نظرثانی کرنی چاہیے ٗپاکستان کے نزدیک کابل اور واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کریں اور بات چیت کے مخالفوں کے خلاف فوجی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ طالبان سے بڑھتے ہوئے تعلقات کے سبب اب روس، چین اور ایران کی پوزیشن پاکستان سے بھی بہتر ہوچکی ہے۔ خیال رہے کہ امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن 24 اکتوبر کو مختصر دورے پر پاکستان آئے تھے جہاں انہوں نے سول و عسکری قیادت سے ایک ساتھ ملاقات کی جس کے بعد وہ بھارت روانہ ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…