حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ناکام ہونے کا اعتراف کیا ہے، شاہ محمود قریشی
اسلام آباد (آئی این پی) تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے ناکام ہونے کا اعتراف کیا ہے، پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے قانون سازی ضروری ہے،پانامہ لیکس میں جن کے نام آئے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ وہ پیر کو یہاں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سنجیدہ لوگوں کی بات مانی گئی توایوان کی کارروائی اچھی طرح چلے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی کہا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم ناکام ہو گی،اب حکومت نے بھی اس بات کا اعتراف کرلیا ہے، اگر حکومت پہلے ہماری بات سن لیتی تو آج اسے سبکی نہ ہوتی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پانامہ لیکس کی تحقیقات کیلئے قانون سازی ضروری ہے، کرپشن نے ہمارے معاشرے کو برباد کر دیا،ملک سے کرپٹ عناصر کا خاتمہ کرنا ہو گا،ہو سکتا ہے چند افراد کو خطرہ ہو لیکن جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، جمہوریت کو کرپٹ عناصر سے خطرہ ہے، گینگ آف فور کی سنی گئی تو اللہ ہی حافظ ہے، پانامہ لیکس میں جن کے نام آئے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ سپیکر نیک نیتی سے ایوان میں ریفری کا کردار ادا کرتے ہوئے ماحول پرسکون رکھیں، اگر وزیراعظم بھی عمران خان سے سوال کرنا چاہتے ہیں تو وہ حاضر ہیں، وزیراعظم سات سوالات کے جواب دے دیں تو مسئلہ ختم ہو جائے اور تمام قیاس آرائیاں دم توڑ جائیں گی۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
عمران خان بھٹو
-
پیٹرول اور ڈیزل سستا کردیا گیا
-
لائبہ اعجاز کیس میں نیا موڑ، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اہم انکشاف
-
طلبا اور سرکاری ملازمین کی موجیں، نومبر میں مسلسل 3 چھٹیاں ملنے کا امکان
-
عرفان پٹھان کو افغان کرکٹر راشد خان کے گھر دعوت کی ویڈیو مہنگی پڑگئی
-
زلزلے کے جھٹکے
-
صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ابھیشیک شرما کا بڑا ریکارڈ توڑ دیا
-
اپنا گھر سکیم، شہریوں کے لیے قرض کا حصول مزید آسان ہوگیا
-
کراچی : گھر سے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ : پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ کا اہم انکشاف
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان
-
شعیب ملک سے شادی کی افواہیں، اداکارہ ونیزہ ستار نے خاموشی توڑ دی
-
اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری
-
ملک میں سونے کی قیمت میں ہزاروں روپے کی کمی
-
اپنا گھر اسکیم کیلیے دستاویزات کی تعداد 25 سے کم کرکے صرف 5 کردی گئی



















































