اسلام آباد (نیوزڈیسک)ماہرین فلکیات نے ایک ایسے نئے اور دور افتادہ ترین نظام شمسی کو دریافت کیا ہے، جس کا ایک بہت بڑا سیارہ اس نظام کے مرکز سے اتنا دور ہے کہ اسے اس ستارے کے گرد اپنے مدار میں ایک چکر پورا کرنے میں قریب ایک ملین سال لگتے ہیں۔فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات 28 جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ایک نئی فلکیاتی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس نئے نظام شمسی کے جس سیارے کی بات کی جا رہی ہے، وہ کافی عرصے سے ماہرین کے علم میں تھا۔ لیکن اب سے پہلے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ خلا میں آزادانہ تیرتا ہوا یہ انتہائی عظیم الجثہ سیارہ ایک ایسا اکیلا فلکیاتی جسم تھا، جو کسی نظام شمسی کا حصہ نہیں تھا۔
لیکن ایک نئی ریسرچ کے نتیجے میں ماہرین نے اس سیارے کو ایک ایسے ستارے کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جو اس سیارے سے قریب ایک ٹریلین یا دس کھرب کلومیٹر دور ہے۔ اس طرح یہ سیارہ اور اس کا ستارہ ایک ایسے نئے نظام شمسی کا حصہ ہیں، جو آج تک دریافت کیا جانے والا سب سے دور دراز سولر سسٹم ہے۔
اس سے بھی دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایک نئے نظام شمسی کے طور پر یہ سیارہ اور اس کا ستارہ دونوں ہی خلا میں اکٹھے حرکت میں بھی ہیں۔ ان دونوں کا زمین کے نظام شمسی کے مرکز یا ہمارے سورج سے فاصلہ تقریبا? 104 نوری سال بنتا ہے۔
ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات اور اس نئی تحقیق کے مرکزی مصنف نیال ڈیکن کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نئے نظام شمسی کے حصوں کے طور پر یہ ستارہ اور اس کا سیارہ دونوں ہی گزشتہ آٹھ برسوں سے ماہرین کے علم میں تو تھے لیکن اب سے پہلے ان دونوں خلائی اجسام کے آپس میں تعلق کا کسی کو علم نہیں تھا۔
برطانیہ کی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی کی Monthly Notices نامی پبلیکیشن کے تازہ ترین شمارے میں شامل کردہ معلومات کے مطابق اس نئے نظام شمسی کے واحد سیارے اور ستارے کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ ہماری زمین اور ہمارے سورج کے درمیان فاصلے کا سات ہزار گنا بنتا ہے۔
ماہرین نے نئے نظام شمسی کو تو کوئی نیا نام نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ستارے کو، لیکن اس سولر سسٹم کے واحد سیارے کا نام 2MASS J2126 ہے، جو اسے قریب آٹھ سال پہلے دیا گیا تھا۔ اس سیارے کو اپنے سورج کے گرد ایک چکر پورا کرنے میں قریب نو لاکھ زمینی سال لگتے ہیں۔اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نیال ڈیکن اور ان کے ساتھی سائنسدان سائمن مرفی کے مطابق 2MASS J2126 نامی سیارہ ہمارے نظام شمسی کے سیارے مشتری یا Jupiter سے 12 سے لے کر 15 گنا تک بڑا ہے۔ اسے اپنے سورج کے گرد ایک چکر لگانے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ سیارہ اپنے وجود میں آنے سے لے کر اب تک ایسے 50 سے بھی کم چکر ہی لگا سکا ہے۔
ماہرین فلکیات کا ایک اور کارنامہ، ایک اور نظام شمسی کی دریافت کر لیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
حج 2027 پیکیجز، پہلی قسط اور اخراجات کی تفصیلات جاری
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
اوم پوری کی اہلیہ نے شوہر کے ملازمہ سے تعلقات کا انکشاف کردیا
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
سعودی عرب جانے والے پاکستانیوں کے لیے بڑا اعلان
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
پوتے نے بیگ میں توپ کے گولے رکھ دئیے، دادی ایئرپورٹ پر پکڑی گئیں
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
غلط ای چالان منسوخ کرانے کا آن لائن طریقہ پنجاب حکومت نے بتا دیا
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی



















































