بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

ماہرین فلکیات کا ایک اور کارنامہ، ایک اور نظام شمسی کی دریافت کر لیا

datetime 26  اپریل‬‮  2016 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)ماہرین فلکیات نے ایک ایسے نئے اور دور افتادہ ترین نظام شمسی کو دریافت کیا ہے، جس کا ایک بہت بڑا سیارہ اس نظام کے مرکز سے اتنا دور ہے کہ اسے اس ستارے کے گرد اپنے مدار میں ایک چکر پورا کرنے میں قریب ایک ملین سال لگتے ہیں۔فرانسیسی دارالحکومت پیرس سے جمعرات 28 جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ایک نئی فلکیاتی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اس نئے نظام شمسی کے جس سیارے کی بات کی جا رہی ہے، وہ کافی عرصے سے ماہرین کے علم میں تھا۔ لیکن اب سے پہلے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ خلا میں آزادانہ تیرتا ہوا یہ انتہائی عظیم الجثہ سیارہ ایک ایسا اکیلا فلکیاتی جسم تھا، جو کسی نظام شمسی کا حصہ نہیں تھا۔
لیکن ایک نئی ریسرچ کے نتیجے میں ماہرین نے اس سیارے کو ایک ایسے ستارے کے ساتھ جوڑ دیا ہے، جو اس سیارے سے قریب ایک ٹریلین یا دس کھرب کلومیٹر دور ہے۔ اس طرح یہ سیارہ اور اس کا ستارہ ایک ایسے نئے نظام شمسی کا حصہ ہیں، جو آج تک دریافت کیا جانے والا سب سے دور دراز سولر سسٹم ہے۔
اس سے بھی دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ایک نئے نظام شمسی کے طور پر یہ سیارہ اور اس کا ستارہ دونوں ہی خلا میں اکٹھے حرکت میں بھی ہیں۔ ان دونوں کا زمین کے نظام شمسی کے مرکز یا ہمارے سورج سے فاصلہ تقریبا? 104 نوری سال بنتا ہے۔
ہارٹفورڈ شائر یونیورسٹی کے ماہر فلکیات اور اس نئی تحقیق کے مرکزی مصنف نیال ڈیکن کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق نئے نظام شمسی کے حصوں کے طور پر یہ ستارہ اور اس کا سیارہ دونوں ہی گزشتہ آٹھ برسوں سے ماہرین کے علم میں تو تھے لیکن اب سے پہلے ان دونوں خلائی اجسام کے آپس میں تعلق کا کسی کو علم نہیں تھا۔
برطانیہ کی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی کی Monthly Notices نامی پبلیکیشن کے تازہ ترین شمارے میں شامل کردہ معلومات کے مطابق اس نئے نظام شمسی کے واحد سیارے اور ستارے کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ ہے کہ وہ ہماری زمین اور ہمارے سورج کے درمیان فاصلے کا سات ہزار گنا بنتا ہے۔
ماہرین نے نئے نظام شمسی کو تو کوئی نیا نام نہیں دیا اور نہ ہی اس کے ستارے کو، لیکن اس سولر سسٹم کے واحد سیارے کا نام 2MASS J2126 ہے، جو اسے قریب آٹھ سال پہلے دیا گیا تھا۔ اس سیارے کو اپنے سورج کے گرد ایک چکر پورا کرنے میں قریب نو لاکھ زمینی سال لگتے ہیں۔اے ایف پی نے لکھا ہے کہ نیال ڈیکن اور ان کے ساتھی سائنسدان سائمن مرفی کے مطابق 2MASS J2126 نامی سیارہ ہمارے نظام شمسی کے سیارے مشتری یا Jupiter سے 12 سے لے کر 15 گنا تک بڑا ہے۔ اسے اپنے سورج کے گرد ایک چکر لگانے میں اتنا وقت لگتا ہے کہ ماہرین کے مطابق یہ سیارہ اپنے وجود میں آنے سے لے کر اب تک ایسے 50 سے بھی کم چکر ہی لگا سکا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…