بدھ‬‮ ، 21 اکتوبر‬‮ 2026 

میر رضا کی موت خودکشی نہیں، قتل تھا، جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری

datetime 21  اکتوبر‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی) سندھ حکومت نے میر رضا علی کی ہلاکت سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ جاری کردی،

جس میں موت کو خودکشی قرار دینے کے ابتدائی پولیس مؤقف پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اسے قتل قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لاش پر تیزاب سے زخم آنے کے نشانات اور خون میں بے ہوشی کے لیے استعمال ہونے والی دوا کی موجودگی کے شواہد ملے۔ کمیشن نے کیس کی مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے اور ابتدائی دس روز کی تفتیش میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے کردار کی وفاقی تحقیقاتی ادارے سے انکوائری کرانے کی سفارش کی ہے۔رپورٹ میں ابتدائی پولیس تفتیش کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق واقعے کے ابتدائی دس روز میں شواہد جمع کرنے، فرانزک جانچ، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے اور میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے طریقہ کار میں سنگین کوتاہیاں ہوئیں۔ حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ سر کے پچھلے حصے میں گولی لگنے کا زخم قرار دیا گیا، جبکہ خودکشی کے ابتدائی مؤقف کو دستیاب طبی اور دیگر شواہد سے مکمل مطابقت نہیں رکھتا پایا گیا۔

کمیشن نے قرار دیا کہ میر رضا علی کی لاش پر تیزاب سے زخم آنے کے نشانات پائے گئے، جبکہ خون میں بے ہوشی کے لیے استعمال ہونے والی دوا کی موجودگی بھی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق ان شواہد کا موت کے حالات سے تعلق جاننے کے لیے مزید غیر جانب دارانہ طبی اور فرانزک جانچ ضروری ہے۔ کمیشن نے زور دیا کہ پولیس کے ابتدائی مؤقف کو حتمی نتیجہ تسلیم کرنے کے بجائے تمام جسمانی، طبی اور سائنسی شواہد کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔رپورٹ میں ابتدائی تفتیش کی خامیوں کو نمایاں کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جائے وقوعہ کی مکمل تصاویر، نقشہ بندی اور شواہد محفوظ کرنے کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ متعدد پولیس اہلکار شواہد جمع کرنے کے عمل میں شامل رہے، تاہم اس حوالے سے مناسب دستاویزی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

کمیشن نے فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد متاثر ہونے کے خدشات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان خامیوں کی مزید تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں ابتدائی تفتیش کی صورت حال کو ”بغیر ملاح کی کشتی” سے تشبیہ دی گئی ہے اور شواہد چھپانے یا معاملے کو دبانے کے امکان کو بھی مکمل طور پر مسترد نہیں کیا گیا۔سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ جائے وقوعہ تک پہنچنے کے کم از کم نو ممکنہ راستے تھے، لیکن پولیس نے صرف ایک راستے کی فوٹیج حاصل کی۔ کمیشن نے متعدد کیمروں کی موجودگی کے باوجود محدود ویڈیو شواہد جمع کرنے پر سوالات اٹھاتے ہوئے تمام دستیاب فوٹیج، فرانزک مواد اور دیگر شواہد کا باہمی موازنہ کرنے کی سفارش کی ہے۔کمیشن نے میر رضا علی کی مالی مشکلات، قرضوں اور کاروباری لین دین کو خودکشی کی حتمی وجہ قرار دینے کے مؤقف پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ رپورٹ کے مطابق مالی پریشانیوں سے متعلق شواہد خودکشی کے نتیجے پر پہنچنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ کمیشن نے مالی لین دین، قرضوں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق، جبکہ واٹس ایپ پیغامات، صوتی پیغامات اور ایپل واچ کے نوٹس سمیت ڈیجیٹل شواہد کی جانچ پر زور دیا ہے۔رپورٹ میں قبر کشائی کے بعد تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں راتوں رات تبدیلی کے معاملے کو بھی بے قاعدہ قرار دیتے ہوئے اس کے طریقہ? کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کمیشن کے مطابق محکمہ صحت کے سیکریٹری اور اسپیشل سیکریٹری نے بورڈ کی تبدیلی میں غیر قانونی مداخلت کی، جس سے شکوک و شبہات بڑھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ اور عوامی دباؤ کے بعد اصل آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ بحال کرنا پڑا۔جوڈیشل کمیشن نے ابتدائی تفتیش میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے علاوہ سینئر پولیس افسران کے کردار کی بھی جانچ کی سفارش کی ہے۔ رپورٹ میں ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی فرخ لنجار کی انکوائریوں پر تنقید کی گئی، جبکہ سابق ایس ایچ او گلستان جوہر کامران قریشی، تفتیشی افسر شبیر لغاری اور ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال کے خلاف کارروائی اور معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن نے ابتدائی دس روز کی تفتیش میں غفلت کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے سے انکوائری کرانے، محکمانہ کارروائی اور ذمہ داری ثابت ہونے پر مجرمانہ مقدمات درج کرنے کی بھی تجویز دی ہے۔

کمیشن نے مزید تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنانے کی سفارش کی ہے، جس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو، پاکستان رینجرز سندھ اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سینئر حکام کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی جانب سے مخصوص شواہد ذرائع ابلاغ کو جاری کرنے اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچانے پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سندھ پولیس کو اپنی سابقہ غلطیوں کا اعتراف کرکے عوام سے اعلانیہ معافی مانگنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔رپورٹ میں ڈاکٹر اسامہ شیخ کے میڈیکو لیگل امور سے متعلق کردار پر بھی سخت ریمارکس دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے ان کے طرزعمل کو غیر پیشہ ورانہ قرار دیتے ہوئے دو سال تک میڈیکو لیگل افسر کا عہدہ نہ دینے اور دوبارہ ذمہ داری سونپنے سے پہلے تعلیمی و عملی تربیت فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔ تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کا مقصد ڈاکٹر اسامہ پر دباؤ ڈالنا نہیں تھا اور وزیراعلیٰ سندھ کو اہم مقدمے پر بریفنگ لینے کا حق حاصل تھا۔جوڈیشل کمیشن نے مجموعی طور پر میر رضا علی کیس کی ابتدائی تفتیش، شواہد کے تحفظ، طبی معائنے، مالی و ڈیجیٹل ریکارڈ اور متعلقہ افسران کے کردار کی آزادانہ جانچ پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ تمام دستیاب شواہد کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں، کوتاہیوں کے ذمہ داروں کا تعین ہو اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



عمران خان بھٹو(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…