کراچی(این این آئی)ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سگریٹ نوشی مردوں اور خواتین دونوں کی تولیدی صحت کو متاثر کرسکتی ہے۔
محققین کے مطابق سگریٹ کے دھوئیں سے تولیدی نظام سے متعلق حیاتیاتی عمل اور جینز کی سرگرمی میں تبدیلیاں پیدا ہوسکتی ہیں، جو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہونے کا سبب بن سکتی ہیں۔برطانیہ کی یونیورسٹی آف ناٹنگھم اور یونیورسٹی آف شیفیلڈ کے سائنس دانوں نے سگریٹ کے دھوئیں سے متاثر ہونے والے نر اور مادہ چوہوں پر تحقیق کی، جس میں جینز میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ سگریٹ نوشی مردوں اور خواتین کے تولیدی نظام کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر چھ میں سے ایک شخص زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرتا ہے۔ سگریٹ نوشی اور تولیدی صلاحیت میں کمی کے درمیان تعلق پہلے بھی سامنے آچکا ہے، تاہم اس کے اثرات کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔سائنسی جریدے فرنٹیئرز میں شائع ہونے والی تحقیق کے دوران چوہوں کو 12 ہفتوں تک سگریٹ کے دھوئیں کے عرق کی کم یا زیادہ مقدار کے اثرات کا سامنا کروایا گیا۔ محققین نے اس دوران تولیدی نظام سے متعلق جینز میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔محققین کے مطابق یہ نتائج سگریٹ نوشی کے تولیدی صحت پر اثرات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، تاہم تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے، اس لیے اس کے نتائج کو انسانوں پر لاگو کرنے کے لیے مزید مطالعات ضروری ہیں۔



















































