اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے معاملے پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح ساڑھے 9 بجے طلب کیا گیا ہے، جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس بلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صوبے میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیرِ غور آئے گی اور اس حوالے سے منظوری حاصل کیے جانے کا امکان ہے۔ تاہم اس اقدام سے متعلق حتمی صورتِ حال کابینہ کے فیصلے کے بعد واضح ہوگی۔اس معاملے پر پیش رفت سے قبل صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوانِ صدر میں ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال کے ساتھ امن و امان اور سکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ موجود تھے۔ملاقات کے دوران صدرِ مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ منگل، 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس طلب کیے جائیں گے۔ ان اجلاسوں میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر آئندہ کارروائی کے حوالے سے پیش رفت متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق ایوانِ صدر میں ہونے والی مشاورت کے دوران گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتِ حال پر بھجوائی گئی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق حتمی فیصلہ حکومتی مشاورت اور متعلقہ آئینی و قانونی مراحل کے بعد سامنے آئے گا۔



















































