اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت میں 20 سالہ طالبہ لائبہ کی لاش ملنے کے واقعے کی پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق طالبہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ تھی اور جی 10 مرکز میں رہائش پذیر تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس نے امریکا جانے کے لیے ایک ایجنٹ کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔
پولیس کے مطابق لائبہ کی لاش تھانہ رمنا کی حدود میں اتوار بازار کے قریب گرین بیلٹ سے ملی۔ اہل خانہ کو اس وقت تشویش ہوئی جب طالبہ دوپہر تقریباً دو بجے گھر سے کسی کو بتائے بغیر نکل گئی۔ بعد ازاں موبائل فون کی لوکیشن کی مدد سے گھر والے اس مقام تک پہنچے جہاں سے اس کی لاش برآمد ہوئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ کو امریکا بھیجنے کے لیے مبینہ طور پر جعلی دستاویزات تیار کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دستاویزات کے جعلی ہونے کا علم ہونے کے بعد لائبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔
پولیس نے بتایا کہ بظاہر واقعہ خودکشی کا معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ طالبہ کی موت کے ساتھ ساتھ مبینہ ایجنٹ کی سرگرمیوں اور رقم کے فراڈ سے متعلق بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد واقعے کی نوعیت واضح ہو سکے گی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے پر مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔



















































