اسلام آباد (نیوز ڈ یسک)خیبر پختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ کے معاملے پر سیاسی صورتحال میں تیزی کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے لانگ مارچ اور ممکنہ وفاقی اقدامات سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے اجلاس میں صوبائی حکومت کے خلاف وفاقی سطح پر ممکنہ کارروائی اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ سمیت مختلف امور پر مشاورت کی گئی۔ اجلاس میں احتجاجی تحریک کے آئندہ مراحل پر بھی غور کیا گیا۔پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی جنوبی اضلاع سے لانگ مارچ کی قیادت کریں گے۔ منصوبے کے تحت مارچ کئی ہفتوں پر محیط سیاسی سرگرمیوں کے بعد اسلام آباد کی جانب بڑھے گا، تاہم حتمی پڑاؤ کے مقام کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی مرکزی اور سینئر قیادت نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو لانگ مارچ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ پارٹی کی جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ صوبائی حکومت کے خلاف وفاقی سطح پر کوئی اقدام کیا گیا تو اس کا جواب عوامی احتجاج کے ذریعے دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کیا گیا تو گورنر ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دینے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔دوسری جانب ممکنہ وفاقی اقدام کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کے لیے پی ٹی آئی نے قانونی ٹیم تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ پارٹی اجلاس میں سیاسی صورتحال کے ساتھ ساتھ آئینی اور قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے مختلف آپشنز پر غور کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا اعلان برقرار رکھا ہے۔



















































