اسلام آباد (نیوز ڈ یسک) 2027 میں دنیا کو شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا ہوسکتا ہے، ماہرین نے ’سپر ایل نینو‘ کے باعث مختلف خطوں میں غیر معمولی موسم اور دیگر خطرات سے خبردار کردیا۔
دنیا پہلے ہی غیر معمولی بارشوں، شدید طوفانوں، سیلاب اور زلزلوں جیسے قدرتی واقعات سے متاثر ہے، ایسے میں آئندہ سال کے حوالے سے موسمیاتی صورتحال کے بارے میں ایک نئی تشویش سامنے آئی ہے۔رپورٹس کے مطابق بحرالکاہل میں بننے والا موسمیاتی نظام ’ایل نینو‘ شدت اختیار کرتے ہوئے ’سپر ایل نینو‘ کی شکل اختیار کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے مختلف حصوں میں موسم کے معمولات نمایاں طور پر متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مطابق ایل نینو ایک ایسا قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو عموماً ہر 2 سے 7 سال کے دوران رونما ہوتا ہے اور وسطی و مشرقی بحرالکاہل میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ رواں سال جون میں سمندر کی سطح کے درجہ حرارت میں 2 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافے کے بعد ایل نینو کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔ عام طور پر اس موسمیاتی نظام کا دورانیہ تقریباً 18 ماہ تک رہتا ہے۔تازہ صورتحال کے مطابق ایل نینو اب زیادہ طاقتور مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ 2027 کے آغاز میں اس کی شدت عروج پر پہنچ سکتی ہے۔
بعض اندازوں میں اسے اب تک کے نمایاں ترین طاقتور سپر ایل نینو میں شمار کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔امریکی محکمہ موسمیات کے مطابق اس موسمیاتی نظام کے نتیجے میں مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا کے بعض علاقوں میں غیر معمولی بارشیں ہوسکتی ہیں، جبکہ جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے مختلف حصوں کو خشک سالی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایل نینو کے اثرات کا تعلق زرعی پیداوار سے بھی ہے، کیونکہ بارشوں کے معمول میں تبدیلی، سیلاب یا خشک سالی کے باعث فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اقوام متحدہ کی فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے مطابق مکئی، چاول اور بارش پر انحصار کرنے والی دیگر فصلیں اس موسمیاتی رجحان سے زیادہ متاثر ہوسکتی ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے اثرات ختم ہونے تک دنیا بھر میں مزید 49 ملین افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوسکتے ہیں۔
ادارے کے اندازے کے مطابق 45 ممالک میں بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد 225 ملین سے بڑھ کر 274 ملین تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔دوسری جانب عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق ستمبر سے نومبر کے دوران دنیا کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ تنظیم نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2024 کے مقابلے میں 2030 سے پہلے کسی ایک سال کے ریکارڈ گرم ترین سال بننے کا امکان 86 فیصد ہے۔ماہرین موسمیات کے مطابق اگر موجودہ موسمیاتی رجحانات برقرار رہے تو 2027 بھی غیر معمولی حد تک گرم سال ثابت ہوسکتا ہے، جس کے اثرات موسم، زراعت، پانی کی دستیابی اور غذائی تحفظ پر پڑنے کا خدشہ ہے۔



















































