منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

باسمتی چاول کے حقوق پاکستان سے واپس لینے کیلیے بھارت یورپی عدالت پہنچ گیا

datetime 25  دسمبر‬‮  2024 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت نے باسمتی چاول کو اپنا پروڈکٹ قرار دلوانے اور شناخت پاکستان سے واپس دلوانے کیلیے یورپی عدالت میں درخواست دائر کردی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس سے قبل یورپی یونین نے بھارت کی درخواست کو مسترد کر کے باسمتی چاول کو پاکستان کی شناخت و پروڈکٹ قرار دیا تھا۔اب ہندوستان نے اس فیصلے کو چلینج کرنے اور باسمتی چاول کی ملکیت حاصل کرنے کیلیے یورپی عدالت میں درخواست دائر کردی۔یورپی یونین نے دعوی کیا ہے کہ اس طرح کی رسائی اسلام آباد کے ساتھ اس کے بین الاقوامی تعلقات کو نقصان پہنچائے گی۔

واضح رہے کہ چاولوں کی اقسام میں باسمتی کو منفرد حیثیت حاصل ہے اور اس کو بریانی، پلا کیلیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ دونوں پکوان باسمتی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور بھی ہیں۔ویسے تو یہ چاول پاکستان اور بھارت دونوں میں پیدا ہوتا ہے اور یورپ میں اس کی برآمد دونوں ممالک کی جانب سے ہوتی ہے لیکن بھارت کی جانب سے باسمتی چاول کو اپنے ٹرید مارک کے طور پر منسلک کرنے کی کوششوں میں لگا رہا ہے جس پر اسے ایک بار پہلے بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔بھارت کے اس عمل سے پاکستان میں نہ صرف چاول کی پیداوار بلکہ پاکستان کی برآمدی منڈی کو بڑا دھچکہ لگنے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…