جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا، جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا‘ بھارتی چیف جسٹس نے ساتھی جج کی ریٹائرمنٹ پر پاکستانی شاعرکی نظم پڑھ دی

datetime 16  مئی‬‮  2023 |

نئی دہلی (این این آئی) بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دھنن جیا وائی چندر چور نے جج کے عہدے سے سبکدوش ہونے والے ساتھی کے اعزاز میں کی جانے والی الوداعی تقریر میں پاکستانی شاعر کا حوالہ دے ڈالا۔چیف جسٹس آف انڈیا نے سپریم کورٹ کے جج کے عہدے سے سبکدوش جسٹس ایم آر شاہ المعروف ’ٹائیگر شاہ‘ کو الوداع کہتے ہوئے کہا کہ ، ’آپ کو بہت یاد کیا جائے گا‘

۔ڈی وائی چندرچور نے پاکستانی شاعرعبید اللہ علیم کی نظم سے شعر پڑھا ’آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا، جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا‘۔بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ وہ جسٹس شاہ کو ان کی ہمت اور لڑنے کے جذبے کی وجہ سے ’ٹائیگر شاہ‘ کہتے ہیں۔بھارتی چیف جسٹس نے کہا کہ، ’جسٹس شاہ کا 9 نومبر 2022 کو کولیجئم میں داخلہ میری بطور چیف جسٹس تقرری کے ساتھ ہوا تھا، وہ میرے لئے ایک مضبوط ساتھی رہے ہیں، جو عملی دانش مندی سے بھرپور ہیں، ان کے بہترین مشوروں سے ہمیں بہت مدد ملی اورہم نے مختصر وقت میں پہلی سات تقرریاں کیں۔ چیف جسٹس نے 1998 میں گجرات ہائیکورٹ میں جسٹس شاہ سے ملاقات کے وقت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک کیس میں پیش ہونا تھا لیکن وہ اپنا گاؤن ممبئی میں ہی بھول گئے تھے اور جسٹس شاہ نے جونیئر سے ان کے لیے گاؤن کا انتظام کیا۔ انہوں نے سبکدوش جج کی حس مزاح کو بھی سراہا۔بھارتی میڈیا کے مطابق 2 نومبر 2018 کو سپریم کورٹ میں تعینات ہونے والے جسٹس شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 32 ہوگئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…