اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں اقتصادی بحران، بیرونی قرضوں اور مالیاتی خساروں میں خطرناک اضافہ، دی ساؤتھ ایشیا اکنامکس فوکس فال نے تفصیلات جاری کر دیں

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مالی سال 2017 کے دوران پاکستان کے بیرونی قرضوں اور مالیاتی خساروں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس سے قبل جاری کی گئی ’’دی ساؤتھ ایشیا اکنامکس فوکس فال‘‘ 2017 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کمزور میکرو اکنامکس پالیسیوں کے نتیجے میں اقتصادی بحران پیدا ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اس سال کی نسبت گزشتہ مالی سال میں پاکستان اقتصادی خسارہ برداشت کرنے

اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی سمیت معاشی نمو کے لیے بہتر پوزیشن میں تھا۔ مزید کہا گیا کہ پاکستان کی معاشی نمو دباؤ کا شکار رہنے کا خدشہ ہے۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف قرض کے اختتام کے بعد پاکستان میں میکرو اکنامکس کا شعبہ جمود کا شکار ہو گیا، جبکہ حالیہ سالوں میں میکرو اکنامکس استحکام کی بحالی کے سلسلے میں واضح پیش رفت دیکھنے میں آئی۔ اقتصادی راہداری منصوبے اور ایم ایس سی آئی انڈیکس مارکیٹ میں شمولیت کے نتیجے میں بھی پاکستانی معیشت نے اپنی استعداد بڑھائی لیکن حالیہ مہینوں میں میکرو اکنامکس متاثر ہوئی۔ رپورٹ کا مزید کہنا ہے کہ بیرونی توازن کو بہتر بنانے سے برآمدات میں بحالی، درآمدات میں کمی اور ترسیل زر کے بہاؤ میں استحکام پیدا ہوا ہے لیکن مذکورہ تینوں اشاریوں میں سے کسی ایک کی بھی غیر موجودگی کی وجہ سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوتے ذخائر پر مزید دباؤ ڈالے گا۔ Growth out of the blue نامی اس رپورٹ کے مطابق آئندہ سال انتخابات کے دوران بھی مالیاتی پوزیشن مزید متاثر ہوگی جس کے باعث قرضوں کی ادائیگی اور ان میں توازن رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔ رپورٹ میں کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے بعد ملک میں سیاسی و اقتصادی پالیسی عدم استحکام کا شکار ہوئی ہے اور پاکستان کے معاشی نظام میں اصلاحات کی سست روی کو معاشی نمو کے لیے تنزلی قرار دیا گیا،

جس کی وجہ سے نجی مالیاتی اداروں کی عدم دلچسپی رہی۔پاکستان میں رسد کے شعبے میں بہتری کی شرح سروسز اور صنعتی شعبوں میں ہوگی جبکہ طلب میں اضافہ پبلک اینڈ پرائیوٹ اداروں سے ہوگا، جس کی وجہ سے سرمایہ کاری میں معتدل اضافہ ہوگا۔معاشی نمو پردباؤ تجارتی خسارے کی وجہ سے 2018-19 تک بلند سطح رہے گا۔ اس حوالے سے اگر کوئی مثبت پالیسی اختیار نہ کی گئی تو معاشی حالات خطرناک حد تک غیر مستحکم ہو جائیں گے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور ملکی سطح پر طلب میں اضافے سے پاکستان میں مہنگائی بڑھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…