ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان کے نظام تعلیم پر وائرس کے اثرات ،ورلڈ بینک مدد کو آن پہنچا،ڈالروں کی بارش کردی

datetime 7  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)عالمی بینک نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اداروں، نظام تعلیم پر بیرونی دباؤ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے پالیسیوں، تعاون کو مضبوط بنانے اور ملک کے پسماندہ اضلاع میں معیاری تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے ایک پروگرام کی تیاری شروع کردی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق قابل اعتماد ذرائع نے بتایا کہ امکان ہے کہ اس پروگرام کے لیے بینک 20 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس میں اسکول نہ جانے والے بچوں کے لیے بہتر ہم آہنگی اور جدید متبادل کے علاوہ ردعمل، بحالی اور لچک پر توجہ دی جائے گی اس سلسلے میں ورلڈ بینک کی ایک ٹیم نے قومی ترجیحات کا تعین کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا شروع کردیا ہے کیونکہ وہ فی الحال کورونا وائرس کے معیار تعلیم کی فراہمی کی صلاحیت پر ہونے والے طویل المدتی اثرات کا اندازہ نہیں لگاسکے ہیں۔منصوبے کے بارے میں ورلڈ بینک کے ایک دستاویز میں کہا گیا کہ موجودہ سرکاری تعلیمی حکمت عملیوں میں وبائی امراض کے ردِ عمل، تعلیم پر معاشرتی و معاشی اثر کو کم کرنے کے لیے اصلاحی اقدامات اور مستقبل کی ہنگامی صورتحال کے لیے تیاریوں میں اضافہ کرنے کے لیے ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوگی۔کورونا وائرس کے ممکنہ معاشی اثرات ملک کے سب سے پسماندہ اضلاع کے لیے دستیاب وسائل کو کم کردیں گے جس سے تعلیمی اخراجات اور تعلیمی نتائج کے حوالے سے علاقائی فرق میں مزید اضافہ ہوگا۔دستاویزات میں کہا گیا کہ وبائی بیماری سے پہلے ہی پاکستان میں نظام تعلیم کو رسائی، معیار اور انتظامات میں کافی مشکلات کا سامنا تھا ۔

اس وبائی مرض سے پہلے ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی دنیا میں دوسری سب سے بڑی تعداد تھی جس کا تخمینہ 2 کروڑ 28 لاکھ بچوں (یا تمام 5 کروڑ 15 لاکھ بچوں میں سے 44 فیصد) ہے جو ابتدائی یا ثانوی تعلیم حاصل نہیں کررہے ہیں۔ 10 سال کی عمر کے 75 فیصد بچے اپنے عمر کے مطابق مواد کو پڑھ نہیں سکتے اور نہ اس کے بارے میں سمجھ سکتے ہیں جبکہ اس کے علاوہ دہرانے اور یا د رکھنے کی شرح میں بھی تعلیمی نظام انتہائی غیر مؤثر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…