بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

حکومتی کوششیں رائیگاں ہونے لگیں! رواں برس پاکستان میں ٹوٹل کتنے پولیوکیسز کی تصدیق ہو چکی؟تشویشناک صورتحال

datetime 2  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)حکام نے پاکستان میں رواں برس کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران سامنے آنے والے نویں پولیو کیس کی تصدیق کردی۔قومی ادارہ برائے صحت کے عہدیدار کے مطابق لاہور میں ایک 10 سالہ بچے میں پولیو وائرس سے متاثر ہوا ہے۔قومی ادارہ برائے صحت کی پولیو لیبارٹری میں تعینات ایک عہدیدار نے بتایا کہ 2 اپریل کو پانی کے

نمونے لے کر تصدیق کے لیے اسلام آباد بھیجے گئے تھے اور مذکورہ وائرس لاہور میں آؤٹ فال پمپنگ اسٹیشن سے تعلق رکھتا ہے۔دوسری جانب سے جب وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو بابر بن عطا سے اس حوالے سے گفتگو کی گئی تو انہوں نے بھی اس کیس کی تصدیق کردی۔خیال رہے کہ پولیو وائرس سے متاثر ہونے کے بعد پہلی علامت ظاہر ہونے کے لیے 3 سے 4 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’یہ تشویشناک بات کے دوسری مرتبہ ایک 10 سال کی عمر کے بچے کا پولیو سے متاثر ہونے کا کیس سامنے آیا ہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کیس سے پولیو ماہرین کی وہ تجاویز بھی درست ثابت ہوگئیں جس میں وہ دس سال تک کی عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے پر زور دیتے ہیں۔دوسری جانب حالیہ پولیو مہم کے دوان خیبر پختونخوا میں درپیش مسائل اور لاہور میں سامنے آنے والے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے بابر بن عطا کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے سابقہ پنجاب حکومت پولیو وائرس کی موجودگی سے انکار کرتی رہی اور نہ ہی کوئی اس وقت پولیو مہم کی ذمہ داری لینے کے لیے تیار تھا‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پنجاب میں پولیو وائرس ملنے کے باوجود صوبائی حکومت کہتی تھی کہ وائرس پشاور کا ہے لیکن ہم بھی اس کی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ پشاور میں سامنے آنے والے وائرس کا تعلق افغانستان سے ہے۔

اس ضمن میں جب ویکسین سے انکار کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بارے میں بابر بن عطا سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیو ویکسینیشن کے لیے روابط کی حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس وائرس کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے، اور بہتر اور موثر رابطوں کے حکمت عملی اپنا کر والدین کے خدشات دور کرنے ہوں گے‘۔خیال رہے ملک میں رواں سال 9 پولیو کیس سامنے آئے جس میں لاہور اور بنوں میں 2، 2 کیس اس کے علاوہ ہنگو، وزیرستان، باجوڑ، قبائل ضلع خیبر اور کراچی سے ایک ایک کیس سامنے آیا۔یہ بات مد نظر رہے کہ دنیا میں پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا وہ 3 ممالک ہیں جہاں اب بھی پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…