پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہوگئے،آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کے لیے مذاکرات جاری ،پاکستان کو مجموعی طور پر کتنی بڑی رقم درکارہے؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  اکتوبر‬‮  2018 |

کراچی(آئی این پی ) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرِ مبادلہ کے ذخائر میں 62 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے چار اکتوبر کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق 28 ستمبر تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب 89 کروڑ ڈالر تک پہنچے۔

ترجمان کے مطابق اسٹیٹ بینک کے پاس 62 کروڑ ڈالر کے ذخائر تھے جن میں سے 8 ارب 40 کروڑ ڈالر تک پہنچے جبکہ شیڈول بینکوں کے ذخائر 6 لاکھ ڈالر سے کم ہوکر 6 ارب 48 کروڑ ڈالر رہ گئے۔اعداد و شمار کے مطابق مرکزی بینک کے ذخائر میں 62 کروڑ 70 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، مجموعی طور پر زرمبادلہ کے ذخائر 15 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے۔یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے 8 ستمبر کو جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضو اور دیگر ادائیگیوں کے بعد ملکی ذخائر 29.3 کروڑ ڈالر کم ہوکر 9 ارب 3 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے، گزشتہ رپورٹ میں کمرشل بینکوں کے ذخائر میں 2 کروڑ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد ذخائر 6 ارب 48 کروڑ ہوگئے تھے۔یہ بھی یاد رہے کہ حکومت پاکستان کے آئی ایم ایف سے مزید قرض لینے کے لیے مذاکرات جاری ہیں، اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کو مجموعی طور پر 31 ارب ڈالر کی فنانسنگ کی ضرورت ہے کیونکہ رواں مالی سال جاری کھاتوں کا خسارہ ساڑھے اٹھارہ ارب ڈالر تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔یاد رہے کہ وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد اسد عمر نے کہا تھا کہ فوری طور پر ملکی نظام چلانے کے لیے نو ارب ڈالرز کی ضرورت ہے، جس کیلئے قرضہ لینا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے سے قرضہ لینے یا نہ لینے کافیصلہ پارلیمنٹ کی مشاورت کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…