منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت سندھ نے کراچی ریپڈ ٹرانزٹ میں بحالی منصوبے کی منظوری دے دی

datetime 2  جولائی  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ حکومت نے کراچی میں جاری بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے (کے بی آر ٹی) کے لیے بحالی منصوبے کی منظوری دے دی۔ رپورٹ کے مطابق ٹرانسپورٹ ماس ٹرانزٹ ڈپارٹمنٹ نے ایک خط کے ذریعے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کو بتایا کہ سندھ حکومت کے ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) کی جانب سے مسودے پر منظوری دے دی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کے بی آر ٹی ایک گزرگاہ ہے۔

جسے کراچی شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور یہاں ٹرانسپورٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی ابتر صورتحال کے پیشِ نظر تعمیر کیا جارہا ہے۔ مذکورہ منصوبے کو ایس ایم ٹی اے کی جانب سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے تیار کیا جارہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ شہر میں کے بی آر ٹی منصوبے کے تحت ’ریڈ لائن‘ منصوبہ 2019 کے پہلے سہ ماہی میں شروع کردیا جائے گا، جس میں کراچی کے شہریوں کو سفری اعتبار سے پریشانیوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اہداف اور بحالی منصوبے کو خاطر میں لاتے ہوئے کے بی آر ٹی کا ریڈ لائن منصوبہ شہر کے لیے ایک بہترین آپشن تصور کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ اس منصوبے کی تعمیرات کراچی شہر کے باسیوں کی گزرگاہوں پر ہی ہوگی بالخصوص گنجان آباد رہائشی اور تجارتی علاقوں میں۔ کے بی آر ٹی کے حوالے سے یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ریڈ لائن منصوبے سے ہونے والے متاثرہ دکان داروں کا تخمینہ لگا لیا گیا ہے اور بحالی منصوبے کے تحت ان کی تخفیف کی جائے گی اس حوالے سروے بھی کرلیا گیا ہے۔ ریڈ لائن منصوبے کے ساتھ نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد تقریباً 925 ہے جن میں سے 293 افراد قانونی دکانوں کے مالک ہیں اور تعمیری کام کے سلسلے میں انہیں اپنی جائیداد سے محروم ہونا پڑے گا۔اس کے علاوہ اس منصوبے کے راستے میں 80 سرکاری اور نیم سرکاری ادارے موجود ہیں جنہیں اپنی منقولہ املاک کو منتقل کرنا پڑے گا، جبکہ اس راستے میں 493 پتھارے بھی موجود ہیں جو منصوبے سے متاثر ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…