پیر‬‮ ، 07 ستمبر‬‮ 2026 

پلڈاٹ نے پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کی کارکردگی جائزہ رپورٹ جاری کردی ،پہلے نمبرپر کون؟حیرت انگیز انکشاف

datetime 20  جون‬‮  2016 |

اسلام آباد(آئی این پی) پارلیمان کی کارکردگی اور شفافیت پر نظر رکھنے والے نجی ادارے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹیو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپرنسی ( پلڈاٹ) نے پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیوں کی تیسرے پارلیمانی سا ل2015-16 کی کارکردگی بارے جائزہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کی کارکردگی 68فیصد کے ساتھ سب سے بہتر رہی جبکہ بلوچستان اسمبلی 35فیصد کے ساتھ آخری نمبر پر رہی ۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں 66فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہیں ۔ پیر کو جاری رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی کی تیسرے پارلیما نی سال کی کاکردگی دیگر صوبوں سے بہتر رہی اور68فیصد ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی 66 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبراور بلوچستان اسمبلی آخری نمبر پر رہی ۔ رپورٹ کے مطابق سندھ اور بلوچستان اسمبلی میں ممبران کیحاضری کی شرح 34فیصد رہی ۔ خیبرپختونخوا میں 32اور پنجاب میں 13فیصد رہی۔ سندھ اسمبلی میں سب سے زیادہ پرائیویٹ ممبر بل9متعارف کرائے گئے ۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب اسمبلی میں ایک ایک اور بلوچستان اسمبلی کی جانب سے کوئی۔۔۔متعارف نہیں کرایا گیا ۔ خیبرپختونخوا اسمبلی ایوان کے تمام امور کمپیوٹر کے زریعے چلانے والی ملک پہلی اسمبلی بن گئی ہے ۔ پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کی سب سے کم حاضری 5فیصد رہی ، بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ ثناء اللہ زہری اور عبدالمالک بلوچ کی حاضری کی شرح 59فیصد رہی ۔ پارلیمان کے تین سالوں کے دوران بلوچستان اسمبلی قائمہ کمیٹیوں کے چند پرنسز مقرر کرنے میں ناکام رہی ۔ پنجاب اسمبلی نے سب سے زیادہ 46بل منطور کئے ۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر سندھ اسمبلی رہی جس نے 28بل پاس کئے ۔ بلوچستان اسمبلی میں 23اورکے پی اسمبلی بل پاس کئے ۔پنجاب اسمبلی اور اس کی کاروائی کا دورانیہ 193منٹ رہا ۔سندھ اسمبلی 182، خیبر پختونخواسمبلی 126اور بلوچستان کا 95گھنٹے دورانیہ رہا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)


ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…