پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

’حکومت کا ریڈیو کو صعنت کا درجہ دینے پر غور

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کی ریٹنگ کی سیاست میں نہیں پڑنا چاہتا اور اس کا بندوبست نجی شعبے کو خود کرنا ہوگا۔پیمرا کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت ملک میں ایف ایم ریڈیو کو ایک صعنت کا درجہ دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ اس کی ترقی ممکن ہوسکے۔یہ باتیں پیمرا کے عبوری چیئرمین کمال الدین ٹیپو نے بی بی سی ورلڈ سروس کے اشتراک سے اسلام آباد میں ایف ایم ریڈیو کے مستقبل کے بارے میں ایک روزہ سیمینار سے خطاب میں کیں۔پاکستان میں ٹی وی کے برعکس ریڈیو کی ریٹنگز کا کوئی انتظام نہیں لہذا کسی کو زیادہ نہیں معلوم کہ کون سا سٹیشن کتنا سنا جاتا ہے اور سامعین کیا زیادہ سنا پسند کرتے ہیں۔؟سیمینار میں اس شعبے سے وابستہ ملک بھر سے سو سے زائد مالکان اور ماہرین نے شرکت کی۔جب میں نے ادھار لے کر اپنا ریڈیو شروع کیا تو بی بی سی کی خبریں چلانے پر مجھے غدار کہا گیا لیکن میں خوشی ہوں کہ بی بی سی اور پیمرا اکٹھے اس شعبے کی ترقی کے لیے سرگرم ہیں۔اسلام آباد، ایبٹ آباد اور ویہاڑی سے ایف ایم پاور 99 کے سربراہ نجیب احمد کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ اس شعبے میں پاکستان میں ٹیلنٹ بھی ہے، ٹیکنالوجی بھی ہے لیکن بدقسمتی سے مقصد واضح نہیں ہے۔انھوں نے کہا ’ میرے نزدیک دو افراد کو بٹھا کر بحث کروانا ریڈیو کا کوئی مواد نہیں ہے۔ ہمیں مواد کا ایک قومی ذخیرہ بنانا چاہیے تاکہ سننے والوں کو بہتر مواد تیار کرکے دیا جاسکے۔‘ایف ایم مالکان کی یہ شکایت رہی کہ پیمرا نے ریڈیو کو مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے لیکن اب کچھ عرصے سے رابطہ بڑھے ہیں۔نیعم مرزا کا کہنا تھا ’پیمرا نے اس سال یہ تیسری کانفرنس منعقد کی ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ یہ ریگولیٹری ادارہ اب ریڈیو کو بھی سنجیدگی سے لیتا ہے۔‘ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر جنرل مرتضی سولنگی نے اپنے خطاب میں ریڈیو کے نجی شعبے کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ لائسنس کے مسائل درپیش ہیں، سرکاری اور نجی سٹیشنوں کے لیے برابر کے مواقعوں کی مشکل بھی درپیش ہے۔انھوں نے پاکستانی فوج کی جانب سے چلائے جانے والے ایف ایم سٹیشنوں کا بھی ذکر کیا جو ان کے بقول کسی پاکستانی ادارے کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے ہیں۔ایف ایم 103 کے سربراہ عمران باجوہ نے کہا کہ جب انھوں نے ادھار لے کر اپنا ریڈیو شروع کیا تو بی بی سی کی خبریں چلانے پر انھیں غدار کہا گیا لیکن انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ بی بی سی اور پیمرا اکٹھے اس شعبے کی ترقی کے لیے سرگرم ہیں۔اکثر شرکا کا اس بات پر اتفاق تھا کہ پاکستان میں ریڈیو کا مستقبل تابناک ہے بس اگر کمی ہے تو اچھے معنی خیز اور تخلیقی مواد کی جس سے ریڈیو اپنے روٹھے ہوئے سامعین کو واپس لا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…