منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کرنل (ر) انعام الرحیم کا کورٹ مارشل، سول نوعیت کے جرم پر فوجی افسران کا بھی کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، سپریم کورٹ کے ریمارکس

datetime 4  مارچ‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر نے وزارت دفاع کے ماتحت ادارے کی حراست سے رہا ہونے والے سابق کرنل سے متعلق کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ انعام الرحیم کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔عدالت عظمیٰ میں جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں بینچ نے کرنل (ر) انعام الرحیم کی رہائی کے حکم کے خلاف حکومتی اپیل پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی، ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع بریگیڈیئر فلک ناز عدالت میں پیش ہوئے، جہاں عدالت کے جسٹس مشیر عالم نے پوچھا کہ کرنل انعام ریٹائرڈ ہیں، ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا اطلاق کیسے ہوسکتا ہے، کیا سوچے سمجھے بغیر ہی کسی کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے؟۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ کرنل (ر) انعام الرحیم پر فوج نے سنگین الزامات لگائے پھر خود ہی رہا کردیا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انعام رحیم کو رہا کردیا ہے لیکن وہ زیرتفتیش ہیں۔اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ کرنل (ر) انعام رحیم کو عدالتی حکم پر رہا نہیں کیا گیا، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انعام الرحیم کی رہائی کی وجوہات الگ ہیں، اس پر جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ وجوہات کوئی بھی ہوں بات سنگین الزامات کی ہے۔نجی ٹی و ی کے مطابق جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سپریم کورٹ واضح کرچکی ہے کہ سویلین کا کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، سویلین کے کورٹ مارشل کے لیے آئینی ترمیم درکار ہوگی، (لہٰذا) کرنل (ر) انعام الرحیم کا کورٹ مارشل سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوگا۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ سول نوعیت کے جرم پر فوجی افسران کا بھی کورٹ مارشل نہیں ہوسکتا، سول نوعیت کا جرم عام آدمی کرے یا فوجی، ٹرائل فوجداری عدالت کرے گی۔جسٹس منیب اختر نے کہاکہ وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیرسول نوعیت کے جرم پر کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا، فوجداری عدالت کو اختیار ہے کہ سول جرم میں جاری کورٹ مارشل کو روک سکے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر لیگل وزارت دفاع بریگیڈیئر فلک ناز نے بات کرنا چاہی تو عدالت نے انہیں روک دیا،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آپ کی نمائندگی کے لیے ایڈیشنل اٹارنی جنرل موجود ہیں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ کمانڈنگ آفیسر نے دلیل کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کورٹ مارشل ہونا ہے کہ کیس عدالت میں جانا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اجازت کے بغیر آپ عدالت کو مخاطب نہیں کرسکتے، بات کرنے سے پہلے عدالت اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے اجازت لیں، عدالت خود آپ سے کچھ پوچھے تو ہی آپ جواب دے سکتے ہیں،

آپ کا کام ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی معاونت کرنا ہے۔اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مذکورہ معاملے میں لاہور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آچکا ہے، جو نکات عدالت نے اٹھائے ہیں ان کے جواب کیلیے وقت درکار ہے۔ساجد الیاس بھٹی نے کہا کہ متعلقہ حکام سے ہدایات لیکر عدالتی سوالات کے جواب دوں گا، جس پر عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں تین ہفتوں کا وقت دیدیا۔جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ کی دفعہ 94، 95 اور ضابطہ فوجداری کی دفعہ 549 پر تیاری کرکے آئیں، سویلین کے کورٹ مارشل سے متعلق نقطے پر بھی معاونت کریں۔جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…