اسلام آباد(نیوزڈیسک))سینیٹ کی قائمہ کمیٹی منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات کے اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ سندھ کی 350 کلو میٹر اور بلوچستان کی 750کلومیٹر زمین سمندر برد ہوچکی،روک تھام کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں ، 2070 میں سند ھ کے بڑے بڑے شہر پانی میں ڈوب جائیں گے، قائمہ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں پیر کو ہوا،اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی ، ترقی و اصلاحات کی طرف سے بلوچستان اور سندھ کے ساحلی علاقوں کی سیکیورٹی کی صوتحال کو بہتر بنانے کیلئے کئے گئے اقدامات اور ویژن 2025کے حوالے سے کراچی اور بدین کے علاقوں میں سمندری پانی ، اس کے اثرات اور روک تھام کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ اقوام متحدہ کے پروگرام یواین ای پی اور اس کے علاقائی سمندروں کے پروگرام اوسی اے ،پی اے سی نے 1989میں پاکستان کو ان ممالک میں شامل کیا ہے جن پر سمندر کی سطح بلند ہونے کے اثرات مرتب ہوں گے،ماحولیاتی تغیرات کی وجہ سے مون سون کی بارشوں ، سمندری طوفانوں اور سیلابوں میں تیزی آ رہی ہے ۔جس کی وجہ سے پاکستان کے کئی صوبے سیلاب کی وجہ سے متاثرہوئے ہیں ۔این آئی او کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سمندر کی سطح 1.3ملی میٹر بلند ہو رہی ہے اور تقریباً80کلو میٹر سمندری پانی اوپر آ چکا ہے ،سینیٹر کریم احمد خواجہ نے کہا کہ سندھ میں 350 کلو میٹر اور بلوچستان میں 750 کلو میٹر زمین سمندر برد ہو چکی ہے یہ ایک بڑا سانحہ ہے اور 2070میں سندھ کے بڑے بڑے شہر پانی میں ڈوب جائیں گے،پلاننگ ڈویژن کے جوائنٹ چیف اکانومسٹ نے بتایا کہ سمندری پانی ساحلی علاقوں میں داخل ہونے کی روک تھام کے حوالے سے ویژن 2025میں کوئی پروگرام شامل نہیں کیا گیا مگر اس کے باوجود اس کی روک تھام کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ نیوی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان نیوی میں ایک ادارہ ہے جس کا کام ساحلی علاقوں کا مطالعہ ہے ۔ جس نے پاکستان کے انڈیا اور ایران کے ساتھ ساحلی علاقوں کا باربار سروے بھی کیا اور ان مسائل کی روک تھام کیلئے دوسرے محکموں سے بھی مدد لی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے چین کا ایک وفد پاکستان کا اس حوالے سے دورہ کر رہا ہے اور پاکستان بحریہ انکی مدد کریگی ۔محسن خان لغاری نے کہا کہ پاکستان میں کاشتکاری کیلئے جو پانی استعمال ہوتا ہے اسکے موثر استعمال کے علم کی کمی ہے ۔سینیٹر مختار احمدنے کہا کہ سطح سمندر میں اضافہ کسی صوبے کا مسئلہ نہیں پاکستان کے مستقبل کا مسئلہ ہے اب تک لاکھوں ایکٹر اراضی سمندر بر د ہو چکی ہے۔ سینیٹر تاج حیدر نے کہا کہ اب تک 24لاکھ ایکٹر زمین سمندر برد ہو چکی ہے اس کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے سندھ حکومت 9سائفون بنا رہی ہے اور اب تک دو سائفون بن چکے ہیں واٹر سیکٹر کیلئے آٹھ ارب روپے رکھے ہیں اور پورے منصوبے کیلئے 50ارب روپے کی ضرورت ہے۔رکن کمیٹی سراج الحق نے کہا کہ سندھ حکومت کی ڈویلپمنٹ کا بجٹ بہت کم ہے ، مسئلے کے حل کیلے ملکی و بین الاقوامی اداروں کی مدد کی ضرور ت ہے ۔قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر صوبہ سندھ اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ز پرمشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی جو ان معاملات پر ایک رپورٹ کریگی ۔ –
2070 میں سند ھ کے بڑےشہر پانی میں ڈوب جائینگے، سینیٹ قائمہ کمیٹی میں انکشاف
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
iPhone 18 Pro Max کی پاکستان میں قیمت اور PTA ٹیکس سامنے آگیا
-
بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
معروف ریسلر ، ریسلنگ کے دوران چل بسے
-
سمارٹ لاک ڈاؤن، شاپنگ مالز اور بازاروں کیلئے نئے اوقات جاری
-
بقایاجات ادا نہ کرنے اورگالیاں دینے پرورکر نے طیش میں آکر فیکٹری کو آگ لگادی‘ 24 کروڑ کا نقصان
-
فیصل قریشی کے تیزی سے کم ہوتے وزن نے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا
-
26 اور 27 ستمبر کو موبائل سروس بند، اہم شہروں کے نام سامنے آگئے
-
حکومت کا بڑا فیصلہ، 50 فیصد ملازمین گھر سے کام کریں گے
-
پنجاب میں طلبا کی ای بائیکس کی تصدیق کا نیا طریقہ کار مقرر
-
محکمہ موسمیات نے آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی
-
آئی جی اسلام آباد کا بڑا فیصلہ، کنٹینرز فوری مالکان کے حوالے کرنے کی ہدایت
-
برطانوی ٹیم کی اسلام آباد اور لاہور ایئرپورٹس آمد، ویزا کے باوجود کئی مسافر آف لوڈ کرادیے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا



















































