منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

ویکسین پر اعتبار میں فرانسیسی سب سے پیچھے

datetime 20  جون‬‮  2019 |

پیرس(آن لائن) پوری دنیا میں اگر کوئی ملک بیماریوں کے خلاف استعمال کی جانے والی ویکسین کے متعلق سب سے زیادہ بدگمان ہے تو وہ فرانس ہے۔ ایک سرویکے مطابق فرانس کی 33 فیصد آبادی ویکسین کی افادیت اور اہمیت کی قائل نہیں۔اس ضمن میں برطانوی طبی خیراتی ادارے ویلکم نے یہ سروے ڈیزائن کیا تھا جبکہ سروے کی انجام دہی گیلپ ورلڈ پول نے کی تھی جو اپریل سے دسمبر 2018 تک جاری رہا تھا۔

اس سروے میں 144 ممالک کے ایک لاکھ چالیس ہزار افراد سے مختلف سوالات پوچھے گئے تھے اور ان کے جوابات کو ایک مطالعے کی شکل دی گئی تھی۔اس سروے سے اہم انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ آمدنی والے ممالک کیباشندوں کا ویکسین پر اعتماد اسی لحاظ سے کم ہے۔ یہی وجہ ہے  کہ بعض امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں ویکسین کے خلاف باقاعدہ مہم جاری ہے۔ اس نئی لہر کے تحت لوگوں نے ویکسین کی افادیت مسترد کردی ہے اور یہاں تک کہ اسے انسانی صحت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ نے اس سال اپریل میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا تھا کہ سال 2010 سے 2017 کے درمیان 16 کروڑ نوے لاکھ بچوں کو خسرے کی پہلی ویکسین نہیں دی جاسکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف امریکہ میں خسرے کے ایک ہزار سیزائد نئے کیسز دیکھے گئے ہیں۔اس رحجان پر گفتگو کرتے ہوئے ویلکم ٹرسٹ میں عوامی رابطے کے سربراہ عمران خان نے کہا، ’ میں اسے ایک عمومی رحجان سمجھتا ہوں کیونکہ جہاں ویکسین پر شکوک پائے جاتے ہیں ان میں ترقی پذیر ممالک بھی اس کا رحجان بڑھ رہا ہے۔ لیکن امیر ممالک میں اس کا رحجان ان کیلیے حیران کن ہے۔‘اس سروے میں پوری دنیا کے 79 فیصد افراد نے اعتراف کیا کہ ویکسین مؤثر ہیں اور 84 فیصد نے کہا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔ فرانس کے برخلاف بنگلہ دیش اور روانڈا جیسے ممالک مے لوگوں نے ویکسین پر 100 فیصد اعتماد کرتے ہوئے انہیں مؤثر، محفوظ اور بچوں کے لییضروری قرار دیا۔دوسری جانب مغربی یورپ کے ممالک کے صرف 22 فیصد افراد نے ہی ویکسین کے محفوظ ہونے سے انکار کیا جبکہ مشرقی یورپ کی 17 فیصد آبادی نے کہا کہ ویکسین غیرمؤثر ہیں۔اس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امیر ممالک میں صحت اور معالجے کی

مناسب سہولیات ہیں اور اگر وہ ویکسین نہیں لیتے تو اس سے وہ ہلاک نہیں ہوں گے لیکن غریب ممالک میں معالجے کی سہولت نہ ہونے کی بنا پر ویکسین ہی ان کا کل سہارا ہے۔ یا پھر امیر ممالک یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ویکسین نہ لگوانے کے کیا نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…