جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب، سعودی بادشاہ نے فوری طور پر وہ کام کر دیا جس کا شور عمران خان برسوں سے پاکستان میں کر رہے تھے، جانتے ہیں شاہ سلمان نے کس منصوبے کیلئے 130ارب ریال مختص کر دئیے، جان کر دنگ رہ جائینگے

datetime 3  مئی‬‮  2018 |

ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک/نیوز ایجنسیاں)سعودی عرب کی اقتصادی اور ترقیاتی کونسل نے معیارِ زندگی پروگرام 2020 کا آغاز کر دیا ہے۔اس پر 34 ارب 60 کروڑ ڈالرز ( 130 ارب ریال ) لاگت آئے گی۔معیار زندگی پروگرام بھی سعودی عرب کے معیشت کو متنوع بنانے اور تیل پر معیشت کا انحصار کم کرنے کے لیے جاری کردہ ویڑن 2030ء کا حصہ ہے۔ مملکت کی وزارتی کونسل نے اس کی منظوری دی تھی۔

اس کا بڑا مقصد ثقافتی ، تفریحی اور کھیلوں کے شعبوں میں ایسی سرگرمیوں کے نئے مواقع مہیا کرنا ہیں جن سے شہریوں کا معیار زندگی بلند ہو ،سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی تنوع آئے۔عرب ٹی وی کے مطابق اس کے علاوہ خدمات کی فراہمی اور انفر ااسٹرکچر کی تعمیر کے لحاظ سے سعودی عرب کے تین شہروں کا معیار بہتر بنانا ہے تاکہ ان کا شمار دنیا کے جدید ترقی یافتہ ایک سو شہروں میں ہو۔سعودی ولی عہد اور اقتصادی وترقیاتی کونسل کے چئیرمین شہزادہ محمد بن سلمان کی کوششوں سے معیار زندگی پروگرام شروع کیا گیا ہے اور اس کی منصوبہ بندی میں دراصل ان ہی کا ویڑن کارفرما ہے۔وہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی نگرانی میں سعودی معیشت کو مزید خوش حال اور سعودی معاشرے کو مزید توانا اور ترقی کرتا ہوا بنانا چاہتے ہیں ۔معیار زندگی پروگرام کے تحت مختلف منصوبوں کی کل لاگت کا تخمینہ 130 ارب ریال لگایا گیا ہے۔اس میں سے ساڑھے 74 ارب ریال کی براہ راست سرمایہ کاری کی جائے گی۔اس کا ایک مقصد متعلقہ شعبوں میں غیر تیل خام قومی پیداوار میں 2020ء تک 20 فی صد سالانہ اضافہ کرنا ہے۔اس کے علاوہ آیندہ دو سال میں متعلقہ شعبوں میں مقامی مواد کا حصہ 67 فی صد ہوگا۔اس پروگرام کے تحت شہریوں کی فلاح وبہبود کے لیے مختلف نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے

جس سے انھیں جدید شہری سہولتوں کی دستیابی کے علاوہ ملازمتوں کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان برسوں سے پاکستان میں معیار زندگی بلند کرنے کیلئے انسانی بنیادی ضروریات اور براہ راست عوامی رابطے کے محکموں میں انویسٹمنٹ کی بات کرتے رہے ہیں۔ اپنے تقریباََ تمام انٹرویوز میں انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ ترقیاتی یافتہ ممالک نے ترقی صرف اس لئے کی ہے کہ انہوں نے انسانوں پر انویسٹ کیا نہ کہ سڑکوں اور دیگر منصوبوں پر ، انہوں نے محکموں کو ٹھیک کیا اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھا اس کے بعد انفراسٹرکچر کی جانب آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…