منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

متواتر میک اپ سے خواتین میں بانجھ پن اور ذیابطیس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، تحقیق

datetime 19  فروری‬‮  2023 |

واشنگٹن(این این آئی)ماہرین نے جدید تحقیق کی روشنی میں دعوی کیا ہے کہ میک اپ کے سامان کے متواتر استعمال سے خواتین میں بانجھ پن اور ذیابطیس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق صحت سے متعلق ایک جریدے میں میک اور دیگر آرائشی سامان کے

ذیابطیس کے درمیان تعلق سے متعلق تحقیق شائع کی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ہیئر اسپرے، نیل پالش، آفٹرشیو اور شیمپو میں فتھالیٹس نامی ایک کیمیائی مادہ پایا جاتا ہے۔ یہ مادہ کھانے پینے کی اشیا کی پیکیجنگ اور کھلونوں کی تیاری میں بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فتھالیٹس نامی ایک کیمیائی مادہ انسانی جلد میں داخل ہوکر جگر، گردوں، پھیپھڑوں اور دیگر اعضا کو نقصان پہنچاتاہے۔ایسی چیزوں جن میں فتھالیٹس میں موجود ہوں کے متواتر استعمال سے انسانی جسم کے اینڈوکرائن سسٹم پر برا اثر پڑتا ہے۔ جس سے بانجھ پن اور ذیابیطیس جیسی بیماری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اس حوالے سے امریکا کی یونیورسٹی آف مشی گن اسکول آف پبلک ہیلتھ سے تعلق رکھنے والی سنگ کیون پارک کا کہنا تھاکہ 6 سال تک مضر صحت کیمیکل کے استعمال سے خواتین ، خصوصا سفید فام خواتین میں ذیابطیس میں 63 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…