پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

پودے بھی آپس میں ’’باتیں‘‘ کرتے ہیں؟سائنسدانوں کا حیران کن دعویٰ

datetime 19  جون‬‮  2018 |

اسٹاک ہوم(سی ایم لنکس) سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے کہ پودے بھی آپس میں باتیں کرتے ہیں لیکن ان کی یہ باہمی گفتگو بے مقصد نہیں ہوتی بلکہ اس کے ذریعے وہ نہ صرف ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں بلکہ نشوونما میں مدد بھی دیتے ہیں۔تازہ تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ پودے اپنی جڑوں سے خاص کیمیائی مادّوں کا اخراج کرتے ہیں جو ان کے قریب موجود، دوسرے پودوں تک پہنچ کر ان کی شناخت کرتے ہیں۔

اور انہیں یہ بتاتے ہیں کہ ان کے پڑوس میں اْگنے والا پودا ان ہی جیسا ہے یا ان سے مختلف ہے۔ علاوہ ازیں، اگر وہ پودے ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں تو کیمیائی مادوں کے تبادلے سے وہ نشوونما میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں کہ جب ماہرین نے پودوں کے درمیان ’’کیمیائی گفتگو‘‘ کا ثبوت پیش کیا ہے۔ برسوں پہلے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ کھمبیاں (مشرومز) ایک زیرِ زمین نیٹ ورک کے ذریعے کیمیائی مادّوں کا تبادلہ کرکے اپنی نشوونما بہتر بناتی ہیں اور بعض مرتبہ معمولی کھمبیوں میں جڑوں کا زیرِ زمین جال ایک مربع میل یا اس سے بھی زیادہ رقبے تک پھیلا ہوا دیکھا گیا ہے۔البتہ یہ نئی دریافت مکئی کے حوالے سے سامنے آئی ہے اور معلوم ہوا ہے کہ مکئی کی فصلوں میں بھی اسی طرح زیرِ زمین پیغام رسانی کا نظام موجود ہوتا ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اگر مکئی کے پودے ایک دوسرے سے زیادہ فاصلے پر لگائے جائیں تو کیمیائی پیغام رسانی کے نتیجے میں مکئی کا ہر پودا اس طرح پروان چڑھتا ہے کہ اس کے پتے زیادہ رقبہ گھیرتے ہیں اور وہ زیادہ بڑا ہوجاتا ہے۔اس کے برعکس، اگر پودوں کو قریب لگایا جائے تو مکئی کے پودے چوڑائی کی نسبت اونچائی میں زیادہ بڑھتے ہیں اور اس طرح کم رقبے میں ان پودوں کی بہتر نشوونما جاری رہتی ہے۔یہ تحقیق سویڈش یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز، سویڈن کے ویلیمر ننکووچ کی سربراہی میں انجام دی گئی جس کے نتائج آن لائن ریسرچ جرنل ’’پبلک لائبریری آف سائنس ون‘‘ (PLoS One) کے تازہ شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔

ننکووچ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ (دورانِ نشوونما) زمین کے اوپر پودوں میں آنے والی تبدیلیوں کا بڑی حد تک انحصار اِن میں زیرِ زمین تعلق (کیمیکلز کے تبادلے) پر بھی ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ تحقیق ابتدائی نوعیت کی ہے جسے زراعت کے میدان میں قابلِ استعمال بنانے کیلیے مزید مطالعات کی ضرورت ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…